شیطان کے چیلے — Page 99
98 ہونے اور برابری کے دعوے کئے ہیں اور اپنے آپ کو اخلاق کے اس اعلیٰ ترین مقام پر فائز سمجھتے ہیں جو حضور ﷺ کا طرہ امتیاز تھا۔مگر ان کی شخصیت کا دوسرا رخ ان کے ان دعاوی کا پول کھولنے کے لئے کافی ہے۔آئیے فرداً فرداً منافقت کی چاروں نشانیوں کو سامنے رکھ کر مرزا صاحب کی زندگی کا جائزہ لیں۔“ اپنی اس تعلی کے ثبوت کے طور پر راشد علی نے تین عناوین قائم کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذات پر حملہ کیا ہے۔(1) دروغ گوئی راشد علی ، دروغ گوئی کا الزام لگاتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حسب ذیل تحریریں پیش کرتا ہے۔و بچپن کے زمانے میں میری تعلیم اس طرح پر ہوئی کہ جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خوان معلم میرے لئے نوکر رکھا گیا جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھا ئیں اور اس بزرگ کا نام فضل الہی تھا۔“ (روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 180 ) ” اور جب میری عمر تقریبا دس برس کی ہوئی تو ایک عربی خواں مولوی صاحب میری تربیت کے لئے مقرر کئے گئے جن کا نام فضل احمد تھا۔جب میں سترہ یا اٹھارہ سال کا ہوا تو ایک اور مولوی صاحب سے چند سال پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ان کا نام گل علی شاہ تھا۔ان کو بھی میرے والد صاحب نے نو کر رکھ کر قادیان میں پڑھانے کے لئے مقرر کیا تھا۔“ اور اب تصویر کا دوسرا رخ :- (روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 190 ) مہدی۔قرآن اور حدیث میں کسی استاد کا شاگرد نہیں ہوتا سو میں حلفاً کہتا ہوں کہ میرا حال یہی ہے۔کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہو۔“ یہ اقتباس پیش کرنے کے بعد بے باک ہو کر راشد علی لکھتا ہے۔(روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 394) " سبحان اللہ! جھوٹ اور وہ بھی حلفیہ!! غالبا مرزا صاحب کو یاد ہی نہ تھا کہ دوسری جگہ کیا لکھ چکے ہیں۔حکماء نے