شیطان کے چیلے — Page 81
81 نہیں ملتی۔جہاد کے دوران حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ملنے والی یہ بیماریاں اسی طرح قابلِ تعریف ہیں جس طرح آنحضرت ﷺ کے صحابہ جنگوں میں پہنچے ہوئے زخموں کو قابلِ تعریف سمجھتے تھے اور ان پر ناز کرتے تھے اور امت کے لئے بھی وہ ناز کا موجب تھے۔اصل بات یہ ہے کہ وہ محنت اور جہاد جو ایک انسان کی ہستی کو گو بظاہر مٹا کر رکھ دے لیکن اس کے نتیجہ میں ایسی فتوحات عطا کر دے کہ طغیانیوں میں امت کی ڈوبتی کشی نہ صرف دوبارہ اپنی پوری جولانیوں کے ساتھ آگے بڑھنے لگے بلکہ اسلام کو ہر مذہب پر غالب کر کے دکھا دے، کسی طرح بھی قابل اعتراض نہیں۔ایسی محنت اور ایسے جہاد کی تو فیق تو صرف اور صرف ”فتح نصیب جرنیل“ کا نصیا ہے۔اسلام کا ایسا فتح نصیب جرنیل جس کے ساتھ خدا تعالیٰ کی رحمت و تائید ایسی غیر معمولی ہے کہ وہ اس کی بیماریوں کو اذن نہیں دیتا کہ اسے مغلوب کر سکیں۔چنانچہ خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ فتح نصیب جرنیل حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود علیہ السلام ، اعصاب وجوارح ، عقل و دانش اور روحانیت ونور بصیرت کے لحاظ سے ہر روز مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا جاتا ہے۔یہاں تک کہ وفات والی رات سے منسلکہ سارا دن بھی وہ مسلسل خدمت و تائید دین میں ہی بسر کرتا ہے۔ہمارا دل تو نہیں چاہتا کہ محبوب خدا ، ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ کی تکالیف کا ذکر کریں مگر تکذیب و استہزاء پر کمر بستہ لوگ چونکہ انبیاء کی صفات اور ان کے حواس اور خواص کے بنیادی عرفان سے ہی عاری ہیں اس لئے ان کو یہ بتانا ضروری ہے کہ وہ بھی بحیثیت بشر عام انسان ہی ہوتے ہیں۔ان پر بھی محنت و مشقت اور غم و الم اگر اسی طرح اثر کرتے ہیں جس طرح ایک عام انسان پر تو وہ ان کی سیرت کا ایک روشن پہلوشمار ہوتا ہے نہ کہ عیب۔چنانچہ حضرت رسول کریم ﷺ کی کتاب زندگی کو کھولیں تو اس کا ایک روشن باب یہ بھی نظر آتا ہے کہ آپ کو ہر طرف سے مہمات در پیش ہیں اور آپ ہر مہم کو ایک فاتح اور غالب جرنیل کی طرح سر کر رہے ہیں لیکن ایسے عالم میں کہ نہ آپ کو اپنے آرام کا فکر تھا نہ طعام کا مسلسل اور یکے بعد دیگرے جنگیں مسلط ہیں جبکہ مسلمان بالکل نہتے اور بے کسی کے عالم میں ہیں۔ذرا جنگ خندق کے حالات ملاحظہ کریں کہ آپ خود پیٹ پر پتھر باندھے ہوئے ہیں لیکن اپنی بھوک کا کسی کو احساس تک نہیں ہونے دیتے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہمارے گھر میں کئی کئی روز چولہا نہیں جلتا تھا۔دن کا یہ عالم تھا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبحاً طويلاً (المزمل:8) کہ تیرا سارا دن کاموں