شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 627 of 670

شیطان کے چیلے — Page 627

624 الیاس ستار ” کیا احمدی جواب دے سکتے ہیں“ میں لکھتا ہے "مرزا صاحب اپنی کتاب " مسیح ہندوستان میں لکھتے ہیں۔(صفحہ 78) اور جیسا کہ انجیل میں مجر درہنے کی ترغیب دی گئی ہے ایسا ہی بدھ کی تعلیم میں ترغیب ہے اور جیسا کہ مسیح کو صلیب پر کھینچنے کے بعد زلزلہ آیا ایسا ہی لکھا ہے کہ بدھ کے مرنے کے بعد زلزلہ آیا۔پس اس تمام مطابقت کا اصل باعث یہ ہی ہے کہ بدھ مذہب والوں کی خوش قسمتی سے مسیح ہندوستان میں آیا۔اور ایک زمانہ دراز تک بدھ مذہب والوں میں رہا اور اس کے سوانح اور اس کی پاک تعلیم پر انہوں نے خوب اطلاع پائی۔لہذا یہ ضروری امر تھا کہ بہت سا حصہ اس تعلیم اور رسوم کا ان میں جاری ہو جاتا کیونکہ ان کی نگاہ میں مسیح عزت کی نظر سے دیکھا گیا۔اور بدھ قرار دیا گیا اس لئے ان لوگوں نے اس کی باتوں کو اپنی کتابوں میں لکھا اور گوتم بدھ کی طرف منسوب کر دیا۔“ اس اقتباس کے مطابق مرزا صاحب کہتے ہیں کہ حضرت عیسی نے عیسائیوں کو مجر درہنے کی ترغیب دی اور بدھ مذہب والوں کو بھی اس بات کی ترغیب دی جب کہ قرآن اس کے خلاف کہتا ہے۔قرآن کی اس آیت پر غور کریں۔ترجمہ " پھر ان کے پیچھے ان ہی کے قدموں پر ( اور ) پیغمبر بھیجے اور ان کے پیچھے مریم کے بیٹے عیسی کو بھیجا اور ان کو انجیل عنایت کی اور جن لوگوں نے ان کی پیروی کی ان کے دلوں میں شفقت اور مہربانی ڈال دی اور لذات سے کنارہ کشی کی تو انہوں نے خود ایک نئی بات نکال لی۔ہم نے ان کو اس کا حکم نہیں دیا تھا مگر انہوں نے ) اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے (خود ایسا کر لیا تھا) پھر جیسا اس کو نبھانا چاہئے تھا نباہ بھی نہ سکے پس جو لوگ ان میں سے ایمان لائے ان کو ہم نے ان کا اجر دیا اور ان میں بہت سے نافرمان ہیں“ (سورہ الحدید : 27) جب اللہ نے فرما دیا کہ حضرت عیسی نے لذات سے کنارہ کش ہو کر رہنے کی تعلیم نہیں دی تو مرزا صاحب کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ حضرت عیسی نے لذات سے کنارہ کشی کی تعلیم دی۔اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر کہہ دیا ہے کہ لوگوں نے خود ہی لذات سے کنارہ کشی اختیار کرنی شروع کی تو مرزا صاحب کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ حضرت عیسی نے اس کی تعلیم دی۔کیا مرزا صاحب کی کتاب اللہ تعالیٰ کی کتاب پر سبقت لے گئی ؟ الجواب: - حضرت مرزا صاحب کی کوئی کتاب یا کسی اور کی کوئی کتاب اللہ تعالیٰ کی کتاب پر نہ سبقت لے گئی ہے نہ لے جاسکتی ہے۔الیاس ستار نے محض اپنی طرف سے پہلے دو مختلف امور کو ایک ساتھ باندھا ہے اور پھر اپنے اعتراض کی بناء اس پر رکھ دی ہے۔اصل بات یہ ہے کہ اگر انجیل کی بات کی جارہی ہو تو پھر انجیل سے ہی ثابت کرنا چاہئے کہ وہ بات اس میں مذکور ہے یا نہیں۔انجیل کا ہر حوالہ نہ قرآن کریم میں ہے نہ اس میں تلاش کیا جاسکتا ہے۔