شیطان کے چیلے — Page 506
502 ہیں، یہ ی مسلمان ہیں یعنی جنتی ہیں اور ایک جماعت احمد یہ ہے جو ناری ہے۔یہ تھی اصل حقیقت جس کی نعوذ باللہ من ذلک آنحضرت ﷺ کو سمجھ نہیں آئی اور پھر بڑے فخر کے ساتھ یہ لوگ اس کو پیش کرتے رہے اور یہی کہہ کر جماعت کے خلاف نت نئے مطالبے کئے جاتے رہے۔احمدیت کی مخالفت کا گند اور کوڑھ دراصل جماعت احمدیہ کی مخالفت کی تاریخ میں شروع سے ہی یہ گند اور کوڑھ داخل تھا کہ جماعت احمدیہ کو وہ جھوٹا بنا ہی نہیں سکتے جب تک اس حدیث کی تکذیب نہ کریں۔اس لئے پہلے بھی جب جماعت کی مخالفت کرتے تھے تو علی الاعلان بڑے فخر کے ساتھ ان میں سے بعض اس کی تکذیب کے مرتکب ہوتے تھے۔چنانچہ مولوی اختر علی خان ابن مولوی ظفر علی خان صاحب نے 1952ء میں جب احمدیوں کے خلاف تحریک چلائی گئی تو بڑے فخر سے یہ بات پیش کی۔وہ کہتے ہیں:۔دو مجلس عمل نے گذشتہ تیرہ سو سال کی تاریخ میں دوسری مرتبہ اجماع امت کا موقع مہیا کیا ہے۔آج مرزائے قادیان کی مخالفت میں امت کے 72 فرقے متحد و متفق ہیں۔حنفی اور وہابی ، دیوبندی، بریلوی، شیعہ سنی ، اہلحدیث سب کے علماء ، تمام پیر اور تمام صوفی اس مطالبہ پر متفق و متحد ہیں کہ مرزائی کا فر ہیں انہیں مسلمانوں سے ایک علیحدہ اقلیت قرار دو۔“ یعنی 72 فرقے مسلمان اور ایک غیر مسلم ہے جو ناری ہے۔(اخبار زمیندار 5 نومبر 1952 ، صفحہ 2 کالم نمبر 6) قدرت کے عجیب و غریب کھیل اور پھر جب 74ء میں یہ ظالمانہ واقعہ ہو گیا تو اس کو اپنی تائید میں آج پیش کر رہے ہیں اور سمجھ نہیں رہے کہ ہم کیا بات کر رہے ہیں۔اس وقت 1974 ء میں نوائے وقت لاہور نے بڑی خوشی سے اور بڑے فخر کے ساتھ بہتر فرقوں کا اجماع کی شہ سرخی کے ساتھ اعلان کیا۔دیکھیں کس طرح خدا جھوٹا کرتا ہے لوگوں کو۔ان کو پتہ ہی نہیں لگتا کہ خدا کی تقدیر ان سے کیا کھیل کھیل رہی ہے۔يُخْدِعُونَ اللَّهَ وَالَّذِيْنَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُوْنَ إِلا أَنْفُسَهُم اللہ ان کے مکروں اور ان کی تدبیروں کو ان پر الٹا دیتا ہے۔چنانچہ نوائے وقت کا یہ نوٹ اسی حقیقت کی غمازی کرتا ہے: