شیطان کے چیلے — Page 9
9 فتوی صادر کرتے ہیں۔پس اگر راشد علی اور اس کا پیر اس پر فخر کرتے ہیں تو ان کا اپنا کفر کے فتوای حدیث کے مطابق ان پر ہی التا ہے تو پھر ان کو اس سے تکلیف نہیں ہونی چاہئے۔انہیں تو یہ کہنا چاہئے کہ اگر یہ کفر ہے تو ہم اس پر فخر کرتے ہیں۔دیکھئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک نوع کے کفر پر کس شان سے فخر فرمایا ہے۔آپ نے فرمایا: بعد از خدا بعشق محمد محترم گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 18 ) نیز فرمایا: مجھ اے واعظ! نظر کی یار نے پر نہ کی حیف اس ایماں جس کفر بہتر لاکھ بار ( براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 143) اس وضاحت کے بعد اب ملاحظہ فرمائیں وہ سوال اور اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تفصیلی جواب جس پر راشد علی نے اعتراض اٹھایا ہے۔دو سوال۔۔۔: - حضور عالی نے ہزاروں جگہ تحریر فرمایا ہے کہ کلمہ گو اور اہلِ قبلہ کو کافر کہنا کسی طرح صحیح نہیں ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ علاوہ ان مومنوں کے جو آپ کی تکفیر کر کے کافر بن جائیں صرف آپ کے نہ ماننے سے کوئی کافر نہیں ہو سکتا۔لیکن عبدالحکیم خان کو آپ لکھتے ہیں کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔اس بیان اور پہلی کتابوں کے بیان میں تناقض ہے۔یعنی پہلے آپ تریاق القلوب وغیرہ میں لکھ چکے ہیں کہ میرے نہ مانے سے کوئی کا فرنہیں ہوتا اور اب آپ لکھتے ہیں کہ میرے انکار سے کافر ہو جاتا ہے۔الجواب :۔یہ عجیب بات ہے کہ آپ کا فر کہنے والے اور نہ ماننے والے کو دو قسم کے انسان ٹھیراتے ہیں حالانکہ خدا کے نزدیک ایک ہی قسم ہے کیونکہ جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ اسی وجہ سے نہیں مانتا کہ وہ مجھے مفتری قرار دیتا ہے۔مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خدا پر افتراء کرنے والا سب کافروں سے بڑھ کر کافر ہے جیسا کہ فرماتا ہے