شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 297 of 670

شیطان کے چیلے — Page 297

296 نے فرمایا : میں اللہ کا رسول ہوں اور میں اس کی نافرمانی کرنے والا نہیں وہ میرا مددگار ہے۔میں نے کہا اوليس كنت تحدثنا انا سناتى البيت فنطوف کہ آپ ہم سے بیان نہیں کرتے تھے کہ ہم عنقریب بیت اللہ میں آئیں گے اور اس کا طواف کریں گے؟ آپ نے فرمایا۔ہاں تو کیا میں تمہیں یہ خبر دیتا تھا کہ ہم اسی سال ہی آئیں گے؟ میں نے کہا نہیں۔تو آپ نے فرمایا تم بیت اللہ میں آنے والے ہو اور اس کا طواف کرنے والے ہو اس کے بعد اسی مضمون کی گفتگو حضرت عمرؓ نے حضرت ابوبکر سے بھی کی اور انہوں نے ایسے ہی جوابات دیئے جیسے رسول اللہ علیہ نے دیئے تھے۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں اس گفتگو کے بعد مجھے کئی اعمال کرنے پڑے۔( یعنی کفارہ ادا کرنا پڑا) امام ابن قیم کی روایت بھی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر نے کہا: ما شككت منذ اسلمت الا يومئذ (زادالمعاد - جلد اول الجزء الثانی۔صفحہ 203۔ناشر المکتبہ القیمہ القاہرہ) " کہ میں جب سے مسلمان ہوا مجھے صرف اسی دن شک پیدا ہوا تھا۔“ پھر بخاری میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کہا اٹھو قربانی دو اور سرمنڈواؤ۔راوی کا بیان ہے۔فوالله ما قام منهم رجل حتى قال ذلك ثلاث مرّات کہ خدا کی قسم کوئی صحابہ سے نہ اٹھا یہاں تک کہ آپ نے تین دفعہ یہ حکم دیا۔جب کوئی بھی نہ اٹھا تو آپ حضرت ام سلمہ (اپنی زوجہ ) کے پاس گئے اور لوگوں کے اس معاملہ کا ذکر کیا۔ام سلمہ نے کہا۔اے نبی اللہ کیا آپ ایسا چاہتے ہیں؟ تو پھر آپ ان میں سے کسی سے کچھ بھی نہ کہیں۔اپنی قربانی دیں اور پھر مونڈنے والے کو بلایئے کہ وہ آپ کا سرمونڈ دے۔اس مشورہ پر آپ نے ایسا ہی کیا۔آپ باہر نکلے کسی سے کوئی کلام نہ کیا اپنی قربانی دی اور سرمنڈایا جب صحابہ نے یہ دیکھا تو وہ بھی اٹھے اور انہوں نے اپنی اپنی قربانیاں دیں اور ایک دوسرے کے سرمونڈنے لگے۔کــاد بـعـضـهـم يقتل بعضا عما حتیکہ قریب تھا کہ غم کے مارے ( یعنی بد حواسی میں ) ایک دوسرے کو قتل کر دیں کیونکہ ان کے دل ان شرائط کی وجہ سے مغموم تھے )۔پس آنحضرت ﷺ کا رویا کے بعد عمرہ کے لئے چلے جانا محض اپنے اجتہاد کی بناء پر تھا آپ نے