شیطان کے چیلے — Page 285
284 دینے پر راشد علی وغیرہ مصر کیوں ہیں؟ یہ بیچارے اس حد تک مسخ ہو چکے ہیں کہ ایک طرف قرآن کریم کے منافی حدیثوں پر ان کی غیرت بھڑک اٹھتی ہے لیکن اسی لمحے یہ ان احادیث رسول کو جو قرآن کریم کے عین مطابق ہیں اور خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت بھی ان پر مہر تصدیق ثبت کر چکی ہے ، بڑی دیدہ دلیری سے رڈی کوڑے کرکٹ کی طرح نہ صرف حقیر سمجھ کر ترک کرتے ہیں بلکہ اسے نشانہ تضحیک و تمسخر بھی بناتے ہیں۔چنانچه دارقطنی والی حدیث کسوف و خسوف پر جس طرح انہوں نے اپنی تحریروں میں استہزاء کیا ہے اور اسے رڈی قرار دیا ہے، بجائے خود وہ ان کے جھوٹا ہونے کا کھلا کھلا ثبوت ہے۔چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تعصب اور بغض نے ان کو اندھا کیا ہوا ہے اس لئے یہ اصل بحث کو نظر انداز کر کے عبارت کا ایک ایسا ٹکڑا چن لیتے ہیں جو ان کی دانست میں مور داعتراض ٹھہر سکتا ہے۔حالانکہ اس پیش کردہ اقتباس میں کوئی ایسی چیز نہیں کہ جس پر توہین رسالت کا عنوان لگایا جا سکے۔بلکہ یہ تو توقیر رسالت کا مسئلہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی طرف منسوب ہونے والی ہر اس وضعی بات کو دلائل و بصیرت کے ساتھ قرآن کریم کے آئینہ میں پرکھ کر رو کر دیا جائے اور کوئی بات آپ کی طرف ایسی منسوب نہ ہونے دی جائے جو آپ کے مقام برتر گمان و وہم کے خلاف ہو۔اگر راشد علی کو اعتراض اس بات پر تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآنِ کریم سے مخالف و معارض حدیثوں کو رڈی کی طرح پھینک دینے کے بارہ میں لکھا ہے تو پھر انہیں چاہئے کہ یہ بھی ساتھ لکھتے کہ اس کے برخلاف ان کا اپنا مسلک یہ ہے کہ وہ قرآن کریم کے خلاف حدیث کو قبول کرتے ہیں اور قرآن کریم کورڈی کی طرح چھوڑ دیتے ہیں (نعوذ باللہ )۔اگر وہ اپنے موقف میں بچے ہیں تو ایسا اعلان کر دیں۔یا یہ اعلان کر دیں کہ وہ قرآن کریم سے مخالف و معارض وضعی حدیثوں کو ر ڈ نہین کرتے بلکہ انہیں اپنے ایمان و عقائد کی بنیاد بناتے ہیں۔چونکہ یہ لوگ اپنی کارروائیوں میں جھوٹے اور فریبی ہیں اس لئے انہوں نے اسی کتاب میں سے ارد گرد کی دیگر عبارتیں پیش نہیں کیں جو ان کے پیش کردہ اقتباس کی وضاحت بھی کرتی ہیں۔مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس عبارت سے پہلے یہ بھی فرمایا ہے کہ دو علاوہ اس کے ان حدیثوں کے درمیان اس قدر تناقض ہے کہ اگر ایک حدیث کے برخلاف