شیطان کے چیلے — Page 216
215 وہ علمی طور پر اس جواب کو ر ڈ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اس لئے ایک ہی نامعقول رٹ لگا کر تکذیب پر مصر ہیں۔بہر حال با وجود اس کے کہ اس کا جواب انہیں پہلے دیا جا چکا ہے، یہاں قدرے اختصار سے ہم اس کے بعض پہلو ہدیہ قارئین کرتے ہیں تا کہ ایک حد تک حقیقت حال کا عمومی خاکہ ان کے سامنے آجائے۔پادری عبداللہ آ تم وہ بد بخت شخص ہے جس نے اسلام کو اور بانی اسلام ﷺ کو نعوذ باللہ جھوٹا ثابت کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ مناظرہ کیا تھا، جو جنگ مقدس“ کے نام سے کتابی صورت میں شائع شدہ ہے۔اس مناظرے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ اسلام اور بانی اسلام کی حقانیت کو عقلی نفلی ، تاریخی ، واقعاتی اور روحانی دلائل کے ساتھ کما حقہ ثابت فرمایا۔اس طرح اسلام کو ایک کھلا کھلا غلبہ نصیب ہوا۔اسی شکست خوردہ پادری عبداللہ آتھم نے ،جس کی وکالت آج ڈاکٹر راشد علی، اور اس کے ہمنو اوغیرہ کرتے ہیں، ایک کتاب ” اندرونہ بائیبل “ بھی لکھی تھی جس میں اس نے ہمارے آقاو مولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ کو ( معاذ اللہ ) دجال لکھا تھا۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے آقا کی غیرت میں تڑپ کر خدا تعالیٰ کے حضور گریہ وزاری کی تو اللہ تعالیٰ نے آپ پر ایک پیشگوئی کا انکشاف فرمایا۔آپ اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: " آج رات جو مجھ پر کھلا وہ یہ ہے کہ جبکہ میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے جناب الہی میں دعا کی کہ تو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں تیرے فیصلہ کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔سواس نے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور بچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی۔بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔اور جو شخص سچ پر ہے اور نیچے خدا کو مانتا ہے اس کی عزت ظاہر ہوگی۔۔۔۔66 ( جنگ مقدس۔آخری پر چہ۔روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 292,291) الہامی الفاظ ہادیہ میں گرایا جائے گا“ کا مفہوم اجتہاد کی رو سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ سمجھا کہ عبداللہ آتھم بسزائے موت ہاویہ ( دوزخ) میں گرایا جائے گا۔چنانچہ اسی پیشگوئی کے آخر میں آپ