شیطان کے چیلے — Page 206
205 نشان سوم :۔دوسری جگہ نکاح کے بعد لڑکی کا باپ چھ ماہ کے عرصہ میں ہلاک ہو گیا۔اگر اس کی موت تین سال سے تجاوز کر جاتی تو پیشگوئی کا یہ حصہ بھی پورا نہ ہوتا۔لیکن یہ حصہ بھی نہایت صفائی کے ساتھ پورا ہوا۔اس طرح یہ تینوں حصے پورے ہو کر اس پیشگوئی کی صداقت کے نشان بن گئے۔باقی دو حصوں کا ظہور پچھلے دو حصے اس طرح ظہور پذیر ہوئے کہ محمدی بیگم کے خاوند مرزا سلطان محمد پر اپنے خسر کی موت سے سخت ہیبت طاری ہوئی اور اس نے تو بہ اور استغفار کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور وعیدی پیشگوئی کی شرط تو بہ سے فائدہ اٹھا کر موت سے بچ گیا۔شرط تو بہ سے فائدہ اٹھانے کے باعث اس سے موت تو ٹل گئی لیکن پیشگوئی کی اصل غرض یعنی تا کہ وہ رجوع کریں اور تو بہ کرنے والوں میں سے ہو جائیں بڑے جلال اور کمال کے ساتھ پوری ہوئی۔جیسا کہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کی تو بہ اور رجوع الی اللہ کی وجہ سے ان سے وہ عذاب ٹل گیا تھا جو حضرت یونس علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق ان پر چالیس دن پورے ہو جانے کے بعد لازماً وارد ہونے والا تھا۔چونکہ مرزا سلطان محمد کی تو بہ اور رجوع الی اللہ سے اس سے موت ٹل گئی اور حضرت اقدس سے محمدی بیگم کا نکاح اس کے بیوہ ہو جانے سے مشروط تھا اس لئے اب اس کا وقوع میں آنا ضروری نہ رہا۔اس طرح پیشگوئی کے یہ آخری دو حصے اس کی اصل غرض کے حاصل ہو جانے کے رنگ میں پورے ہوئے۔اب نکاح کا وقوع صرف اس بات سے معلق ہو کر رہ گیا کہ مرزا سلطان محمد از خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں کسی وقت بیبا کی اور شوخی دکھائے اور پیشگوئی کی تکذیب کرے۔یہ تکذیب محض امکانی تھی ، ضروری الوقوع نہ تھی۔اور نکاح کے اس طرح معلق ہونے کی حد بھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی تک ہی تھی۔مگر محمدی بیگم کا خاوند مرزا سلطان محمد ، حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں بھی تو بہ پر قائم رہا اور بعد میں بھی۔اسی طرح اس خاندان کے دوسرے افراد نے بھی اصلاح کرلی تو اس وعیدی پیشگوئی کی اصل غرض جو اس خاندان کی اصلاح تھی پوری ہوگئی۔کیونکہ اس خاندان کے افراد نے الحاد اور دہریت کے خیالات کو ترک کر دیا اور اسلام کی عظمت کے قائل ہو گئے اور ان میں سے اکثر نے