شادی کے مواقع پر بدرسوم اور بدعات سے اجتناب

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 18 of 30

شادی کے مواقع پر بدرسوم اور بدعات سے اجتناب — Page 18

18 کسی بیوہ کو شادی سے روکنا بھی بڑی بیہودہ اور گندی رسم ہے ”معاشرے کو رشتہ داروں کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ زبر دستی کسی بیوہ کو ساری عمر بیوہ ہی رکھیں یا اس کو کہیں کہ تم ساری عمر بیوہ رہو۔اگر خود اپنی مرضی سے کوئی شادی کرنا چاہتی ہے تو قرآنی حکم کے مطابق اسے شادی کرنے دو۔کسی بیوہ کو شادی سے روکنا بھی بڑی بیہودہ اور گندی رسم ہے اور اس کو اپنے اندر سے ختم کرو۔ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو تین مرتبہ فرمایا۔اے علی ! جب نماز کا وقت ہو جائے تو دیر نہ کرو۔اور اسی طرح جب جنازہ حاضر ہو یا عورت بیوہ ہو اور اس کا ہم کفو مل جائے تو اس میں بھی دیر نہ کرو۔(ترمذی۔کتاب الصلوۃ باب فی الوقت الاول) خطبات مسرور جلد دوم ص 928) مہنگے شادی کارڈ شادی کارڈوں پر بھی بے انتہا خرچ کیا جاتا ہے۔دعوت نامہ تو پاکستان میں ایک روپے میں بھی چھپ جاتا ہے یہاں بھی بالکل معمولی سا پانچ سات پینس (Pens) میں چھپ جاتا ہے تو دعوت نامہ ہی بھیجنا ہے کوئی نمائش تو نہیں کرنی لیکن بلاوجہ مہنگے مہنگے کارڈ چھپوائے جاتے ہیں۔پوچھو تو کہتے ہیں کہ بڑا ستا چھپا ہے صرف پچاس روپے میں۔اب یہ صرف پچاس روپے جو ہیں۔اگر کارڈ پانچ سو کی تعداد میں چھپوائے گئے ہیں تو یہ پاکستان میں چھپیس ہزار روپے بنتے ہیں اور چھپیں ہزار روپے اگر کسی غریب کو شادی کے موقع پر ملیں تو وہ خوشی اور شکرانے کے جذبات سے مغلوب ہو جاتا ہے۔" (خطبات مسر در جلد سوم صفحہ 334)