شادی کے مواقع پر بدرسوم اور بدعات سے اجتناب — Page 17
17 ہد رسوم اور بدعات سے اجتناب کے بارہ میں حضرت خلیفہ اسح الخامس اید واللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ارشادات عورتوں کو ان باتوں کا خیال رکھنا چاہئے۔صرف اپنے علاقہ کی یا ملک کی رسموں کے پیچھے نہ چل پڑیں۔بلکہ جہاں بھی ایسی رسمیں دیکھیں جن سے ہلکا سا بھی شائبہ شرک کا ہوتا ہو ان سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اللہ کرے تمام احمدی خواتین اسی جذ بہ کے ساتھ اپنی اور اپنی نسلوں کی 66 تربیت کرنے والی ہوں۔“ عورتیں عورتوں میں بھی ڈانس نہ کریں خطبات مسرور جلد اول ص379) و بعض عورتیں کہتی ہیں کہ عورتیں عورتوں میں ناچ لیں تو کیا حرج ہے؟ عورتوں کے عورتوں میں ناچنے میں بھی حرج ہے۔قرآن کریم نے کہہ دیا ہے کہ اس سے بے حیائی پھیلتی ہے تو بہر حال ہر احمدی عورت نے اس حکم کی پابندی کرنی ہے۔اگر کہیں شادی بیاہ وغیرہ میں اس قسم کی اطلاع ملتی ہے کہ کہیں ڈانس وغیرہ یا ناچ ہوا ہے تو وہاں بہر حال نظام کو حرکت میں آنا چاہئے اور ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔اب بعض عورتیں ایسی ہیں جن کی تربیت میں کمی ہے کہہ دیتی ہیں کہ ربوہ جاؤ تو وہاں تو لگتا ہے کہ شادی اور مرگ میں کوئی فرق نہیں ہے۔کوئی ناچ نہیں ، کوئی گانا نہیں، کچھ نہیں۔تو اس میں پہلی بات تو یہ ہے کہ شرفاء کا ناچ اور ڈانس سے کوئی تعلق نہیں۔اور اگر کسی کو اعتراض ہے تو ایسی شادیوں میں نہ شامل ہو۔جہاں تک گانے کا تعلق ہے تو شریفانہ قسم کے، شادی کے گانے لڑکیاں گاتی ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں۔“ (خطبات مسرور جلد دوم ص 94)