شادی کے مواقع پر بدرسوم اور بدعات سے اجتناب

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page ii of 30

شادی کے مواقع پر بدرسوم اور بدعات سے اجتناب — Page ii

پیش لفظ مجلس مشاورت پاکستان منعقدہ 20 تا 22 مارچ 2009ء کی پہلی تجویز بدرسوم اور بدعات سے اجتناب کے بارہ میں تھی۔بدرسوم سے بچنے کے لئے خاص توجہ کے ساتھ مسلسل کوشش کی ضرورت ہے۔ہمارے پیارے امام حضرت خلیفہ اُسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے 15 جنوری 2010 ء کے خطبہ جمعہ میں ہماری توجہ پھر ان رسم ورواج کے پھندوں سے آزاد ہونے کی طرف دلائی ہے۔آپ فرماتے ہیں۔خوشی اور غمی انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہے اور دونوں چیزیں ایسی ہیں جن میں کچھ حدود اور قیود ہیں۔ہر وہ عمل جو نیک عمل ہے جو خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر ہے وہ عبادت بن جاتا ہے۔اگر یہ مد نظر رہے تو اسی چیز میں ہماری بقا ہے اور اسی بات سے پھر رسومات سے بھی ہم بیچ سکتے ہیں۔بدعات سے بھی ہم بیچ سکتے ہیں۔فضول خرچیوں سے بھی ہم بچ سکتے ہیں۔لغویات سے بھی ہم بچ سکتے ہیں۔پھر فرمایا : اب میں کھل کر کہہ رہا ہوں کہ ان بیہودہ رسوم و رواج کے پیچھے نہ چلیں اور اسے بند کریں۔“ اس کے بعد مورخہ 22 جنوری 2010ء کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک خط میں ارشاد فرمایا کہ میں نے شادی بیاہ کی رسموں کے بارہ میں اپنے 15 جنوری 2010 کے خطبہ جمعہ میں جن امور کا ذکر کیا تھا ان کی پابندی کروائیں۔“ حضور انور ایدہ اللہ کے ارشاد کی تعمیل میں مورخہ 15 جنوری 2010ء کا خطبہ پیش خدمت ہے۔اس میں بدرسوم کے بارہ میں حضور انور کے دیگر ارشادات بھی شامل ہیں تا ہر احمدی تمام امور کی پابندی کرتے ہوئے بد رسوم اور بدعات سے اپنا دامن بچائے رکھے۔آمین