شادی کے مواقع پر بدرسوم اور بدعات سے اجتناب

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 16 of 30

شادی کے مواقع پر بدرسوم اور بدعات سے اجتناب — Page 16

16 چیزیں راہ پا رہی ہیں۔اگر ہم بے احتیاطیوں میں بڑھتے رہے تو یہ طوق پھر ہمارے گلوں میں پڑ جائیں گے جو آنحضرت ﷺ نے ہمارے گلوں سے اتارے ہیں اور جن کو اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اتارنے کی پھر نصیحت فرمائی ہے۔اور پھر ہم دین سے دور ہٹتے چلے جائیں گے۔اب ظاہر ہے جب ایسی صورت ہوگی تو پھر جماعت سے بھی باہر ہو جائیں گے۔کیونکہ جماعت سے تو وہی جڑ کر رہ سکتے ہیں جو نور سے حصہ لینے والے ہیں اور جو اللہ اور اس کے رسول اور کتاب سے حصہ لے رہے ہیں۔جو اللہ اور رسول اور اس کی کتاب سے حصہ نہیں لے رہے وہ نور سے بھی حصہ نہیں لے رہے۔جو نور سے حصہ لینے کی کوشش نہیں کر رہے وہ ایمان سے بھی دور جا رہے ہیں۔تو یہ تو ایک چکر ہے جو چلتا چلا جاتا ہے۔پس ہر وقت اپنی حالتوں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔آنحضرت ﷺ جو خود بھی نور تھے اور آسمان سے کامل نور آپ پر اترا تھا یہ دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ میرے دل اور میرے دیگر اعضاء میں نور رکھ دے۔(بخاری کتاب الدعوات باب الدعاء اذانتبه من الليل حديث نمبر 6316) یہ دعا اصل میں تو ہمیں سکھائی گئی ہے کہ ہر وقت اپنی سوچوں اور اپنے اعضاء کو، اپنے خیالات کو، اپنے دماغوں کو ، اپنے جسم کے ہر حصہ کو اللہ تعالیٰ کی تعلیم کے مطابق استعمال میں لانے کی کوشش کرو اور اس کے لئے دعا کرو کہ ذہن بھی پاکیزہ خیال رکھنے والے ہوں اور عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش کرنے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ایمانوں میں مضبوطی پیدا کرنے والے ہوں۔اللہ اور اس کے رسول کے قول پر عمل کرنے والے ہوں۔رسم و رواج سے بچنے والے ہوں۔دنیا وی ہوا و ہوس اور ظلموں سے دور رہنے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ کے نور سے ہم ہمیشہ حصہ پاتے چلے جائیں۔کبھی ہماری کوئی بدبختی ہمیں اس نور سے محروم نہ کرے۔( خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 جنوری 2010ء بمقام مسجد بیت الفتوح لندن۔برطانیہ )