شادی کے مواقع پر بدرسوم اور بدعات سے اجتناب — Page 7
7 ہیں۔مثلاً خوشیاں ہیں۔یہ دیکھنے والی بات ہے کہ خوشیاں منانے کے لئے ہماری کیا حدود ہیں اور غموں میں ہماری کیا حدود ہیں۔خوشی اور غمی انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہے اور دونوں چیزیں ایسی ہیں جن میں کچھ حد و داور قیود ہیں۔آج کل دیکھیں، مسلمانوں میں خوشیوں کے موقعوں پر بھی زمانے کے زیر اثر طرح طرح کی بدعات اور لغویات راہ پاگئی ہیں اور غموں کے موقعوں پر بھی طرح طرح کی بدعات اور رسومات نے لے لی ہے۔لیکن ایک احمدی کو ان باتوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ جو کام بھی وہ کر رہا ہے اس کا کسی نہ کسی رنگ میں فائدہ نظر آنا چاہئے۔اور ہر عمل اس لئے ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے جو حدود قائم کی ہیں ان کے اندر رہتے ہوئے ہر کام کرنا ہے۔میں نے خوشی اور غمی کا جوذ کر کیا ہے تو خوشیوں میں ایک خوشی جو بہت بڑی خوشی کبھی جاتی ہے وہ شادی کی خوشی ہے اور یہ فرض ہے۔جب بعض صحابہ نے یہ کہا کہ ہم خدا تعالیٰ کی عبادت کی خاطر اپنی زندگیاں تجرد میں گزاریں گے ، شادی نہیں کریں گے تو آنحضرت ﷺ نے اسے بُرا منایا اور فرمایا کہ نیکی وہی ہے جو میری سنت پر عمل کرتے ہوئے اور تعلیم کے مطابق کی جائے۔اور میں نے تو شادیاں بھی کی ہیں۔روزے بھی رکھتا ہوں۔عبادات بھی کرتا ہوں۔(بخاری کتاب النکاح باب الترغيب فى النكاح حدیث نمبر (5063) اور آپ کی عبادات کا جو معیار ہے وہ تو تصور سے بھی باہر ہے۔پس یہ مسلمانوں کے لئے ایک فرض ہے کہ اگر کوئی روک نہ ہو، کوئی امر مانع نہ ہو تو ضرور شادی کرے۔لیکن ان میں بعض رسمیں خاص طور پر پاکستانی اور ہندوستانی معاشرہ میں راہ پا گئی ہیں جن کا اسلام کی تعلیم سے کوئی بھی تعلق اور واسطہ نہیں ہے۔اب بعض رسوم کو ادا کرنے کے لئے اس حد تک خرچ کئے جاتے ہیں کہ جس معاشرہ میں ان