شادی کے مواقع پر بدرسوم اور بدعات سے اجتناب — Page 6
6 تھی اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ اللہ پر ایمان ، اس کے رسول پر ایمان اور قرآن کریم پر ایمان ہی نور سے حصہ دلانے والا بنے گا، جنت کا وارث بنائے گا۔اللہ تعالیٰ انسان کے ہر عمل سے باخبر ہے۔اس کے علم میں ہے کہ انسان کون سے اعمال اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے بجا لا رہا ہے۔اُسوہ رسول اور تعلیم پر کس حد تک عمل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ایمان کا دعوی دل سے ہے یا صرف زبانی باتیں ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے جو انسانوں پر احسان کیا کہ ایک ایسا نبی مبعوث فرمایا جس کی تعلیم پر عمل کرنے سے ہی دنیا و آخرت میں انسان کی بقا ہے تو ان لوگوں کا جو مومن ہونے کا دعوی کرتے ہیں کس قدر یہ فرض بنتا ہے کہ اپنے اوپر اس تعلیم کولا گوکر میں جو کامل اور مکمل تعلیم ہے۔اور پھر اللہ تعالیٰ کا جاری احسان دیکھیں کہ وَآخَرِيْنَ مِنْهُم (الجمعة) کی خبر دے کر یہ تسلی بھی کروائی کہ آنحضرت ﷺ اور قرآن کریم کا فیضان جو فیضان نور ہے یہ جاری ہے۔اندھیرے زمانہ کے بعد آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق اور آپ ﷺ کے نور سے سب سے زیادہ حصہ پانے والے جس امام اور مسیح و مہدی نے آنا ہے اس کے ذریعہ پھر اندھیروں سے نور کی طرف راہنمائی ہوگی۔آنے والے مسیح موعود اور مہدی موعود نے پھر اُمت کو بھی اور باقی دنیا کو بھی اعتقادی اور عملی اندھیروں سے نکالنا ہے اور جو اس کے ساتھ جڑ جائے گا، جو اسے قبول کرے گا، جو اس سے سچا تعلق رکھے گا، جو دنیا کی لغویات سے بچتے ہوئے اس سے کئے گئے عہد کی پابندی کرے گا وہ پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرتے ہوئے جنتوں کی خوشخبری سنے گا۔پس ایک احمدی کو جہاں اس بات سے تسلی ہوتی ہے وہاں فکر بھی ہے۔اپنے جائزے لینے کی ضرورت بھی ہے۔اس نور سے فائدہ اٹھانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے يُؤْمِنْ بِاللَّهِ وَيَعْمَلْ صَالِحًا (التغابن: 10) کی شرط رکھی ہے کہ اللہ پر ایمان کے ساتھ عمل صالح ضروری ہے۔پس ہمیشہ اپنے مدنظر یہ بات رکھنی چاہئے کہ کون ساعمل صالح ہے اور کون سا غیر صالح ہے۔بعض بظاہر چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی