شادی کے مواقع پر بدرسوم اور بدعات سے اجتناب — Page 10
10 کہ بید میں گھر والوں پر بوجھ بن رہی ہوتی ہیں۔لیکن اگر معاشرے کے زیراثر ایک قسم کی بد رسومات میں مبتلا ہوئے تو دوسری قسم کی رسومات بھی راہ پا سکتی ہیں اور پھر اس قسم کی باتیں یہاں بھی شروع ہو جائیں گی۔پس ہر احمدی کو اپنے مقام کو سمجھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر احسان کرتے ہوئے اسے مسیح و مہدی کی جماعت میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔اب یہ فرض ہے کہ صحیح اسلامی تعلیم پر عمل ہو۔شادی بیاہ کے لئے اسلامی تعلیم میں جو فرائض ہیں وہ شادی کا ایک فرض ہے اس کے لئے ایک فنکشن کیا جاسکتا ہے۔اگر توفیق ہو تو کھانا وغیرہ بھی کھلایا جا سکتا ہے۔یہ بھی فرض نہیں کہ ہر بارات جو آئے اس میں مہمان بلا کے کھانا کھلایا جائے اگر دُور سے بارات آ رہی ہے تو صرف باراتیوں کو ہی کھانا کھلایا جا سکتا ہے۔لیکن اگر ملکی قانون روکتا ہے تو کھانے وغیرہ سے رکنا چاہئے اور ایک محدود پیمانے پر صرف اپنے گھر والے یا جو چند باراتی ہیں وہ کھانا کھا ئیں۔کیونکہ پاکستان میں ایک وقت میں ملکی قانون نے پابندی لگائی ہوئی تھی۔اب کیا صورت حال ہے مجھے علم نہیں لیکن کچھ حد تک پابندی تو اب بھی ہے۔دوسرے ولیمہ ہے جو اصل حکم ہے کہ اپنے قریبیوں کو بلا کر ان کی دعوت کی جائے۔اگر دیکھا جائے تو اسلام میں شادی کی دعوت کا یہی ایک حکم ہے۔لیکن وہ بھی ضروری نہیں کہ بڑے وسیع پیمانے پر ہو۔حسب توفیق جس کی جتنی توفیق ہے بلا کر کھانا کھلا سکتا ہے۔پس جیسا کہ میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہمارا مقصد پیدائش بتایا ہے۔ہر وہ عمل جو نیک عمل ہے جو خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر ہے وہ عبادت بن جاتا ہے۔اگر یہ مد نظر رہے تو اسی چیز میں ہماری بقا ہے اور اسی بات سے پھر رسومات سے بھی ہم بیچ سکتے ہیں۔بدعات سے بھی ہم بیچ سکتے ہیں۔فضول خرچیوں سے بھی ہم بیچ سکتے ہیں۔لغویات سے بھی ہم بیچ سکتے ہیں اور ظلموں سے بھی ہم