شادی کے مواقع پر بدرسوم اور بدعات سے اجتناب

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 11 of 30

شادی کے مواقع پر بدرسوم اور بدعات سے اجتناب — Page 11

11 بچ سکتے ہیں۔یہ ظلم ایک تو ظاہری ظلم ہیں جو جابر لوگ کرتے ہی ہیں۔ایک بعض دفعہ لاشعوری طور پر اس قسم کی رسم و رواج میں مبتلا ہو کر اپنی جان پر ظلم کر رہے ہوتے ہیں۔اور پھر معاشرے میں اس کو رواج دے کر ان غریبوں پر بھی ظلم کر رہے ہوتے ہیں جو کہ سمجھتے ہیں کہ یہ چیز شاید فرائض میں داخل ہو چکی ہے۔اور جس معاشرے میں ظلم اور لغویات اور بدعات وغیرہ کی یہ باتیں ہوں، وہ معاشرہ پھر ایک دوسرے کا حق مارنے والا ہوتا ہے اور پھر جیسا کہ میں نے کہا ایک دوسرے پر ظلم کرنے والا ہوتا ہے۔لیکن اگر ہم ان چیزوں سے بچیں گے تو ہم حق مارنے سے بھی بیچ رہے ہوں گے۔ظلموں سے بھی بیچ رہے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بھی بن رہے ہوں گے۔اور آج احمدی سے بڑھ کر کون ایسے معاشرہ کا نعرہ لگاتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور دوسروں کے حقوق قائم کرنے کی باتیں ہو رہی ہوں۔آج احمدی کے علاوہ کس نے اس بات کا عہد کیا ہے کہ اتباع رسم اور متابعت ہوا و ہوس سے باز آ جائے گا۔آج احمدی کے علاوہ کس نے اس بات کا عہد کیا ہے کہ قرآن شریف کی حکومت کو بکلی اپنے سر پر قبول کرے گا۔آج احمدی کے علاوہ کس نے اس بات کا عہد کیا ہے کہ قال اللہ اور قال الرسول کو اپنے ہر ایک راہ میں دستور العمل بنائے گا۔پس جب احمدی ہی ہے جس نے اللہ اور اس کے رسول اور قرآن کریم کے نور سے فیض پانے کے لئے زمانہ کے امام کے ہاتھ پر یہ عہد کیا ہے جو شرائط بیعت میں داخل ہے تو پھر اپنے عہد کا پاس کرنے کی ضرورت ہے۔اس عہد کی پابندی کر کے ہم اپنے آپ کو جکڑ نہیں رہے بلکہ شیطان کے پنجے سے چھڑا رہے ہیں۔خدا اور اس کے رسول کی باتوں پر عمل کرتے ہوئے ہم اپنے تحفظ کے سامان کر رہے ہیں۔اپنی فہم و فراست کو جلا بخش رہے ہیں۔اپنی عفت و پاکیزگی کی حفاظت کر رہے ہیں۔اپنی حیا کے معیار بلند کر رہے ہیں۔صبر اور قناعت کی طاقت اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اپنے اندرزہد و تقویٰ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اپنے ایمانوں میں مضبوطی پیدا کر رہے ہیں۔