شادی کے مواقع پر بدرسوم اور بدعات سے اجتناب

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 12 of 30

شادی کے مواقع پر بدرسوم اور بدعات سے اجتناب — Page 12

12 اپنی امانت کے حق کی ادائیگی کی بھی کوشش کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی خشیت، اللہ تعالیٰ کی محبت اور اللہ تعالیٰ کی طرف خالص ہو کر جھکنے کے معیار حاصل کرنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں تا کہ اپنے مقصد پیدائش کو حاصل کر سکیں۔پس اگر اندھیروں سے نکلنا ہے اور نور حاصل کرنا ہے اور زمانہ کے امام کی بیعت کا صحیح حق ادا کرنا ہے تو دنیا داری کی باتوں کو چھوڑنا ہوگا۔اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنی ہوں گی۔اپنے آپ کو اعلیٰ اخلاق کی طرف لے جانے کے لئے جدو جہد کرنی ہوگی۔حیا کا معیار بلند کرنے کا میں نے ذکر کیا ہے۔حیا بھی ایک ایسی چیز ہے جو ایمان کا حصہ ہے۔آج کل کی دنیاوی ایجادات جیسا کہ میں نے شروع میں بھی ذکر کیا تھا، ٹی وی ہے، انٹرنیٹ وغیرہ ہے اس نے حیا کے معیار کی تاریخ ہی بدل دی ہے۔کھلی کھلی بے حیائی دکھانے کے بعد بھی یہی کہتے ہیں کہ یہ بے حیائی نہیں ہے۔پس ایک احمدی کے حیا کا یہ معیار نہیں ہونا چاہئے جوٹی وی اور انٹرنیٹ پر کوئی دیکھتا ہے۔یہ حیا نہیں ہے بلکہ ہوا و ہوس میں گرفتاری ہے۔بے حجابیوں اور بے پردگی نے بعض بظاہر شریف احمدی گھرانوں میں بھی حیا کے جو معیار ہیں الٹا کر رکھ دیئے ہیں۔زمانہ کی ترقی کے نام پر بعض ایسی باتیں کی جاتی ہیں، بعض ایسی حرکتیں کی جاتی ہیں جو کوئی شریف آدمی دیکھ نہیں سکتا چاہے میاں بیوی ہوں۔بعض حرکتیں ایسی ہیں جب دوسروں کے سامنے کی جاتی ہیں تو وہ نہ صرف نا جائز ہوتی ہیں بلکہ گناہ بن جاتی ہیں۔اگر احمدی گھرانوں نے اپنے گھروں کو ان بیہودگیوں سے پاک نہ رکھا تو پھر اُس عہد کا بھی پاس نہ کیا اور اپنا ایمان بھی ضائع کیا جس عہد کی تجدید انہوں نے اس زمانہ میں زمانے کے امام کے ہاتھ پہ کی ہے۔آنحضرت ﷺ نے بڑا واضح فرمایا ہے کہ الحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِّنَ الْإِيْمَانِ کہ حیا بھی ایمان کا ایک حصہ ہے۔(مسلم کتاب الایمان باب شعب الايمان وافضلها۔۔۔۔۔حديث نمبر 59)