شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 69 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 69

44 جزوی اختلاف باقی رہ جاتا ہے جو یہ ہے کہ آنے والا سیح آسمان سے اتر کر آئے گا یا بموجب حدیث صبح علم مامكم منكم يا بموجب حدیث نبوی اما مكُم مِنكور صبیح بخاری) رای امت محمدیہ میں سے پیدا ہوگا۔اور یہ جودی اختلاف صرف مسیح موعود کی شخصیت کے بارے میں ہوگا۔نہ کہ ختم نبوت کے بارہ ہیں۔اختلاف کے حل کی صورت راس جزوی اور فروعی اختلاف کا نتیجہ مولوی عبد الماجد صاحب کے بقول ہرگز یہ نہیں ہونا چاہیئے کہ جماعت احمدیہ کو ، بانی سلسلہ احمدیہ کو سیح موعود اور انتی نبی اور آپ کی نبوت کو خاتم النبیین صل اللہ علیہ وسلم کی شریعیت کی خادم سمجھنے کے باوجود اسلام سے مرتد اور کافر قرار دیا جائے۔اس کے حل کی اصل صورت تو یہ ہونی چاہیئے کہ اس بارہ میں پوری چھان ربین کی جائے کہ آیا حضرت علی علیہ السلام وفات پاچکے یا بجسده العنصری آسمان پر زندہ موجود ہیں۔اگر تو حضرت عیسی علیہ السلام خاکی جسم کے ساتھ آسمان پر زندہ ثابت ہوں تو پھر جماعت احمدیہ غلطی پر ہے۔اور اگر حضرت عیسی السّلام وفات یافتہ ثابت ہوں تو صاف کھل جائے گا کہ امت محمدیہ میں آنے والا سچے موعود جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مندرجہ صحیح مسلم میں چار دفعہ نبی الله قرار دیا گیا ہے وہ امت محمدیہ کا ہی ایک فرد اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی ایک روحانی فرزند ہے۔اور اسے حضرت عیسی علیہ السلام سے مماثلت اور شابہت کی وجہ