شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 266
744 آپ کی شان افاضہ کو بھی قرآن کریم میں امتیازی حیثیت کے ساتھ پیش فرمایا۔چنانچہ سورۃ نساء کے رکوع 9 میں فرماتا ہے :- " وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ الْعُمَ الله عليهم من البِينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِينَ وَحَسُنَ أُولَيكَ رَفِيقًاه (نساء ع ٩) بینی جو لوگ اللہ تعالیٰ اور الرسول یعنی خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں گے وہ شرف در تبہ پانے میں ان لوگوں کے ساتھ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے۔نبیوں ، صدیقوں ، شہیدوں اور صائین میں سے اور یہ لوگ رفاقت کے لحاظ سے اچھے ہیں۔اس آیت میں الرسول سے مراد خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔چونکہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اللی و إِذَا ثَبَتَ ثَبَتَ بِلَوَازِمِه که جب ایک منشی ثابت ہو یا پائی جائے تو اپنے تمام لوازم کے ساتھ پائی جاتی ہے۔اس لیئے اس جگہ الرسول سے مراد خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کیونکہ محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو خاتم النبیین کی شان لازم ہے۔اور جب اس رسالت کا کمال بیان کرنا مقصود ہو گا تو وہ در اصل شان خاتم النبیین کا کمال ہوگا۔لہذا اس آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان ختم نبوت کی فیض رسانی کا یہ کمال بیان کیا گیا ہے کہ آپ کی پیروی کے نتیجہ میں نہ صرف یہ کہ آپ کا اتنی انبیاء کے گروہ کا ایک فرد بن سکتا ہے۔بلکہ اس سے بڑھ کہ اس کے لئے یہ بھی ممکن ہے کہ وہ تمام انبیاء کے کمالات کا جامع ہو سکے۔مفردات راغب اصفہانی میں جو لعنت قرآن کی ایک مستند کتار ہے مع کے چار معنی بیان کئے گئے ہیں۔اول معیت مکانی جیسے دو شخص