شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 247 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 247

۲۴۷ فرد قرار دینا مقصود ہوتا تو اس سے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو کیسے اطمینان محصل ہو سکتا تھا۔انہیں تو اطمینان اور ستی تبھی ہوسکتی تھی جب کہ یہ الفاظ اُن کے حق میں کسی طرح محل مدرج میں استعمال کئے گئے ہوں۔اطْمَئِنَ يَا عَم ! اسے بچا ! آپ تسلی پائیں کے الفاظ اس بات کے لئے قوی قرینہ ہیں کہ خاتم المهاجرين کے الفاظ حضرت عباس رضی رفتہ کے حق میں محل مارچ میں استعمال ہوئے ہیں۔اس جگہ ایک ار امر پر بھی غور کرنا ضروری ہے تا کہ ہم یہ امری طور پر معلوم کر سکیں کہ خاتم المهاجرین جوشتہ ہے اس کو خاتم النبیین شبہ یہ سے کس بات میں تشبیہ دی گئی ہے۔وجہ شبہ وہ امر جس میں تشبیہ دی گئی ہے، دریافت کرنے میں ہمیں اس امر کو ملحوظ رکھتا ہو گا کہ حدیث میں صرف خاتم المہاجرین کو خاتم النبیین سے تشبیہہ نہیں دی گئی۔بلکہ خاتم الْمُهَاجِرِينَ فِي الْهَجْرَةِ لَو خَاتَمُ النَّبِيِّينَ في السبورة سے تشبیہ دی گئی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم افصح العرب تھے۔لہذا آپ کے کلام میں خاتم المہاجرین کے ساتھ الهجرة اور خاتم النبیین کے ساتھ النبوۃ کے الفاظ بلاوجہ قرار نہیں دیئے جاسکتے۔بلکہ اُن کا اس تشبیہہ کے سمجھانے میں بڑا دخل ہے۔اب واضح ہو کہ خاتم الْمُهَاجِرِينَ فِي الهجرة کے یہ معنے ہیں کہ مکہ سے مدینہ کی طرف جو ہجرت مخصوصہ خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت ہوئی ہے اس کے لحاظ سے حضرت عباس سے کہا گیا ہے کہ وہ ہجرت کرنے والوں میں سے آخری فرد ہیں نہ کہ آپ علی الاطلاق مہاجرین کے محض آخری فرد ہیں۔کیونکہ اس مخصوصہ ہجرت کے بعد لبعض اور بھی