شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 241
۲۴۱ خاتم کے محاورات کا حل اب اس تحقیق کو سامنے رکھ کر جب ہم دیکھتے ہیں توخاتم الاولیاء، خاتم المحدثین خاتم الحفاظ ، خاتم المفترين ، خاتم الشعراء ، خاتم الاكابر ، خاتم الحكام اور عمل کا خاتم الکل ہونا ایسے القاب ہیں جن میں حقیقی معنی کا پایا جانا محال اور متعذر نہیں۔کیونکہ حقیقی معنی کے لحاظ سے خاتم الاولیاء وہ ہوگا جو جامع کمالات ولایت ہو۔اور اپنے زمانہ میں جس کی تاثیر اور افاضہ سے ولی پیدا ہوسکیں ، خاتم المحرتین و الحفاظ و المفترین وہ لوگ ہوں گے جو ان کمالات کے جامع ہوں اور جن کی تاثیریعنی افاضہ سے اُن کے شاگردوں میں محدث ، حافظ اور مفتر پیدا ہو سکیں۔اور خاتم الشعراء وہ ہوگا جو اپنی تاثیر سے اپنے شاگردوں کو شاعر بنا سکے۔اور خاتم الا کا ہر وہ ہوگا جس کے قرب واتباع سے بڑے آدمی پیدا ہو سکیں۔ہیں۔اور خاتم الحکام وہ بادشاہ ہو گا جس کے زمانہ میں اُس کی مہر اور حکم سے دوسرے لوگ حاکم بن سکیں۔ان سب القاب میں حقیقی معنے چسپاں ہوں گے۔اور افضلیت کے معنے ان حقیقی معنوں کے تابع ہوں گے۔اور ان حقیقی معنوں کو لازم ہوں گے۔خواہ اس محاورہ کو استعمال کرنے والا اس حقیقت کو جانتا ہو یا نہ جانتا ہو۔عقل خاتم الکل اس لئے ہے کہ اس کی تاثیر سے دنیا میں بڑے بڑے کمالات ظاہر ہوتے ہیں۔اس لئے عقل لازماً وجود ، حیات اور قدرت وغیرہ نعمتوں کے مقابلہ میں افضل ہوگی۔لیکن اگر کسی ایسے مرکب اضافی کے حقیقی معنے نہ لئے جا سکتے ہوں تو وہاں افضلیت :