شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 203 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 203

۲۰۳ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں کہ سخاوت یعنی افاضہ روحانید میں نہ آپ جیسا کوئی ہوا ہے نہ ہوگا۔اس لئے گویا جامعیت کمالات اور افاضہ روحانیہ خاتم النبیین کے معنے ہیں یہی حقیقی معنے ہیں۔اب اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بود وسخا اور افاضہ رومانیہ کشتی کو صرف ولایت کے مقام تک ہی پہنچا سکتا ہو تو یہ کمال تو پہلے انبیاء کو بھی حاصل تھا۔کیونکہ اُن کے افاضہ اور اثر سے کئی ولی اور محدثین پیدا ہوئے۔پھر یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ افاضہ رومانیہ ہیں آپ جیا نبی نہ کوئی ہوا ہے نہ ہوگا۔میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے افاضہ روحانیہ کا کمال یہ ہے کہ آپ کی شریعت کی کامل پیروی اور آپ کے افاضہ کے واسطہ سے آپ کا ایک اتنی مقام نبوت بھی پاسکتا ہے۔پھر آگے فرماتے ہیں ہے چونکه در صنعت برد استاد دست تو نہ گوئی خستم صنعت بر تو است یعنی جب کوئی کا دیگر اپنی صنعت میں انتہائی کمال کے مرتبہ پر پہنچ جاتا ہے تو اسے مخاطب کیا تو نہیں کہتا کہ تجھ پر کاریگری کی مہر لگ گئی ہے یعنی تجھ پر کاریگری کمال کو پہنچ گئی ہے۔خاتم النبیین کے حقیقی منوں یعنی افاضہ رومانیہ کانتیجہ بھی مولانا روم کے ذیل کے شعر سے خوب واضح ہوتا ہے۔آپ فرماتے ہیں ہے مکر کن در راه نیکو خدمتے کو تا نبوت یابی اندر اتنے دمنوی دفتر پنجم مره شائع کرده مولوی فیروز الدین صبا)