شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 142 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 142

۱۴۲ الجواب : اس کے متعلق عرض ہے کہ تفاسیر میںلکھا ہے کہ اس آیت کا تعلق مسیح موعود علیہ السلام سے بھی ہے۔کیونکہ دین حق اور ہدایت جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وستم لائے ہیں اس کا تمام ادیان پر غلبہ سیج موجود کے زمانہ سے وابستہ ہے۔آیت کے پہلے حصہ کا براہ راست تعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔دوسرے حصہ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلَّه سے مسیح موعود علیہ السلام کا تعلق خود مفسرین نے تسلیم کیا ہے۔علاوہ ازیں قرآن مجید کے اُٹھ جانے اور ایک رحیل فارسی کے ایمان کو ثریا سے لانے کا ذکر بھی احادیث میں موجود ہے ہے۔پھر سیح موعود کے زمانہ کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں يُهْلِكُ اللَّهُ فِي زَمَانِهِ الْمِلَكَ كُلَهَا إِلَّا الإسلام - که خدا تعالیٰ اس کے زمانہ میں اسلام کے سوا تمام مذاہب کو ہلاک کر دے گا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ یہ زمانہ حسب سنت انبسیار تین صد سال کا زمانہ ہے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وہ تم کا کام تکمیل ہدایت تھا۔چونکہ مسیح موعود آپ کا خلیفہ اور نائب ہے۔اس کا کام تکمیل اشاعت ہدایت ہے۔مگر اس زمانہ میں جو کام ہوگا اس کا مربع بھی در اسل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔اسی لیے مسیح موعود کا نام اس آیت میں نہیں یاگیا۔بلکہ یہ کام ضرت صلی الہ علیہ وسلم کا ہی قراردیا گیا ہے۔یہ پیشگوئی ہیں ہی ہے جیسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیصر و کسری کے خزانوں کی چابیاں اپنے ہاتھ میں دکھایں۔مگر یہ فتوحات بظاہر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر ہوئیں۔ه این جزیره جلد ۵ است و جلد ۲۵ ۵۳ - که بخاری تفسیر سوره جمعه - که ابو داؤد جلد ۲ ۲۳۶