شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 143
۱۴۳ چونکہ حضرت عمرہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ تھے۔اس لئے عبد اللہ اس پیش گوئی میں نفلی طور پر آپ مراد ہیں۔اور آپ کے ہاتھوں کو اسی بناء پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ قرار دیا گیا ہے۔اور اس طرح یہ پیش گوئی خلقی طور پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے تعلق رکھتی ہے مگر حقیقی مرجع اس کامیابی کا جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ہوئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔(بخاری کتاب التفسیر ) (۳) اگر کہو کہ صاحب الشرعیت افتراء کر کے ہلاک ہوتا ہے نہ ہر ایک مغتری۔تو اول تو یہ دعوی بے دلیل ہے۔خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی۔ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعیت کیا چیز ہے۔جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر اور نہی بیان کئے۔وہی صاحب شریعت ہو گیا۔پس اس تعریف کے رو سے بھی ہمارے مخالف عزم ہیں۔کیونکہ میری وجی میں امر کی ہیں اور نہی بھی۔مثلا یہ الہام قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَخضُوا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لهم۔یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔اور اس پر تیئیس برس کی مدت بھی گزر گئی۔اور ایسا ہی اب تک تیری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی " (العین نمبر ۳ ) (۳) چونکہ میری تعلیم میں امر بھی ہے اور نہی سبھی اور شریعیت کے ضروری احکام کی تجد یاد ہے " (اربعین حاشیہ ۳۴) محمد ه یعنی راہین احمدیہ کیا۔