شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 137 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 137

۔۔یا شریعت سابقہ میں کوئی ترمیم وتنسیخ یا اضافہ کا حق رکھے۔یا کم از کم مستقل حیثیت رکھتا ہو۔یعنی بلا استفادہ نئی سابق کے اصالتا اور براہ راست اس مقام کو پانے والا ہو کسی دوسرے نبی کا اتنی نہ ہو۔غیر مستقل نبی اُن کے نزدیک کوئی ہوتا ہی نہیں۔اور نہ یہ ان کے نزدیک نبوت کی کوئی قسم اور مرتبہ ہے۔اور عام مسلمانوں کے ذہنوں میں یہ بات راسخ ہے کہ نبی ہوتا ہی وہ ہے جونئی شریعیت لاتے۔وہ یہ جانتے ہی نہیں نبوت، شریعیت کے علاوہ بھی کوئی چیز ہے۔بعقائد کی کتابی نبراس شرح مقاصد وغیرہ اس پر شاہد ہیں کہ نبی عام ہے اور رسول خاص۔قَالَ بَعْضُهُمْ يُشْتَرَطُ فِي الرَّسُولِ شَرع جَدِيد - یعنی بعض کے نزدیک رسول کے لئے نئی شریعت کی شرط ہے۔(ص ۴۲۳ نبراس )۔شرح مقاصد جلد اول 11 میں رسول کی تعریف میں لکھا ہے :۔هُوَ مَنْ لَهُ كِتَابٌ أَو نَسْخُ لِبَعْضِ أَحْكَامِ الشَّرِيعَةِ السَّابِقَةِ یعنی رسول وہ ہے جس کے پاس کوئی کتاب ہو۔یا شریعت سابقہ کے بعض احکام کو منسوخ کرے۔پس اس عقیدہ کے علماء کے نزدیک نبی اور رسول دونوں اوصاف کا حامل وہی شخص ہوگا جوکم از کم شریعیت سابقہ کے بعض احکام کو منسوخ کرتا ہو۔گویا تشریعی نبی ہو۔یہ ہے اُن کے نزدیک نبوتت در سالت کی جامع حیثیت کی حقیقت گو قرآن مجید سے یہ حقیقت واضح ہے کہ غیر تشریعی انبیاء کے لئے بھی اللہ تعالے نے رسول کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔چنانچہ حضرت موسی علیہ اسلام کے بعد