شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 121
IP قرار دینا ہوگا۔یہ مکاشفات صحیحہ اور دھی وہ الہام میں کے نزول کا شرف اولیاء اللہ اور محد تین امت کو ہوتا رہا۔سب المبشرات میں داخل قرار دینا ضروری ہوں گے۔کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے المشعرات کے سوا نبوت میں ہے کچھ بھی باقی قرار نہیں دیا۔پی سیچ موعود کی نبوت اور دہی بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی پیروی اور ایفا منہ رومانیہ کے واسطہ سے المبشرات کا حامل ہونے کی وجہ سے ہوگی۔اور یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح موعود کو المیرات کی وجہ سے ہی نبی اللہ قرار دیا ہے۔کیونکہ جو نبوت منقطع ہو چکی اس کا حامل بنی آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم کے بعد کبھی ظاہر نہیں ہو سکتا۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے مسیح موعود کو روایت مندرجہ صحیح مسلم باب خروج الدجال میں چار دفعہ نبی اللہ قرار دیا ہے اور اس پر وحی کے نزول کا ذکر بھی فرمایا ہے۔تو پھر المبشرات کو صرف سچی خوابوں تک محدود ماننا ہرگز درست نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابہ نہ کی دریافت پر المبشرات کو رویائے صالحہ قرار دینا صحابہؓ اور عام مومنوں کے لحاظ سے ہے نہ کہ محدثین امت یا مسیح موعود کے لحاظ سے۔کیونکہ ان کا مکالمہ الہیہ کا شرف پا نا خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مسلم ہے۔حضرت ابن عباس مہم جیسے جلیل القدر مفسر نے قرآنی آیت مَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الي رَيْنكَ الاقتْنَةَ لِلنَّاسِ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسراء پر چسپاں کیا ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رات رات بیت المقدس کی سیر کی۔اور انبیاء کی امامت کرائی۔اِس اِسراء میں