شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 103
١٠٣ کو یہ جواب دیا ہے کہ " اس اُمت کا نبی اُس میں سے ہوگا " پھر حضرت عیسی علیہ السلام امت محمدیہ کا فرد بھی نہیں بن سکتے۔کیونکہ حضرت موسی علیہ السلام کی یہ خواہش اس وجہ سے یہ ہوئی ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ہوئے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے امت محمدیہ میں آنے والے مسیح موعود کو ایک حدیث میں چار دفعہ نبی اللہ قرار دیا ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ یہ مسیح موعود نبی اللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم کی امت کا ہی فرد ہے نہ کہ وہ صحیح حضرت عیسی علیہ السلام جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ہوئے ہیں۔حضرت عیسی علیہ السلام تو بموجب حدیث ہذا نہ امت محمدیہ کے نبی ہو سکتے ہیں نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا فرد ہو سکتے ہیں۔اس حدیث سے یہ بھی ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں اس حدیث کے رو سے بھی ایک نبی ضرور ظاہر ہونے والا تھا تبھی تو خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ " اس اُمت کا نبی اس میں سے ہو گا " یادر ہے کہ حضرت موسی علیہ اسلام نے یہ درخواست نہیں کی تھی کہ مجھے آنحضرت لی اللہ علیہ وسلم کی جگہ ان کی امت کا نبی بنا دیا جائے۔کیونکہ ایسا سوال اُن کی شان نبوت کے منافی ہے۔کیونکہ جب خدا تعالیٰ نے اپنی عزت و جلال کی قسم کھا کر موسیٰ علیہ اسلام سے کہا کہ ہم نے آنحضرت صلی اللہ علہ وسلم کا نام زمین و آسمان اور شمس و قمر کے وجود میں آنے سے ہیں لاکھ سال پہلے اپنے نام کے ساتھ عرش پر لکھ رکھا ہے تو اس کا علم ہونے پر وہ یہ درخواست کرنے کی جرات نہیں کر سکتے تھے کہ آنحضرت صلی للہ علیہ وسلم کو حیثیت نبی نہ بھیجا جائے اور اُن کی جگہ مجھے نبی بنا دیا جائے۔یہ تو خُدا تعالے کی شان میں گستاخی ہوتی جس سے خدا تعالیٰ کا نبی پاک ہوتا ہے۔پس