شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 94
۹۴ ثمَّ افْنَاهُ " یعنی کون اور بروز کی دو قسمیں ہیں حقیقی اور مجازی۔اس مجازی بروز کی کئی شاخیں ہیں۔ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ حقیقت (بروزیہ ) عالم مثال میں متمثل ہوتی ہے اور بروز اپنے بعض واقعات میں یہ دیکھتا ہے کہ گویا اس نے دنیا کو پیدا کیا ہے۔پھر اُسے فنا کیا ہے۔اسی طرح حقیقی بروز کے متعلق لکھتے ہیں :۔وَأَمَّا الْحَقِيقِي فَعَلَى ضُرُوبٍ۔۔۔۔۔۔وَتَارَةً أُخْرَى بِان تشتبكَ بِحَقِيقَةِ رَجُلِ الهُ أَوِ الْمُتَوَسِلِينَ إِلَيْهِ كما وقع لنبينَا بِالنِّسْبَةِ إِلى ظُهُورِ الْمَهْدِي یعنی حقیقی یروز کی کئی قسمیں ہیں۔۔۔کبھی یوں ہوتا ہے کہ ایک شخص کی حقیقت میں اُس کی آل یا اس کے متوسلین داخل ہو جاتے ہیں۔جیسا کہ ہمارے نبی صلی الہ علیہ وال کی مہدی سے تعلق ہمیں اس طرح کی بروزی حقیقت وقوع پذیر ہوگی۔ماحصل یہ ہے کہ مہدی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حقیقی یہ روز ہے۔اور سلطان عادل خدا تعالیٰ کا مجازی بروز ہے۔اور خدا تعالیٰ کا حقیقی بروز کوئی نہیں ہو سکتا۔کیونکہ یہ خیال مشرکانہ ہے۔لیکن خاتم النبی صلی اللہ علیہ وکل کی حقیقی بروز ہو سکتا ہے۔اور مہدی موعود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حقیقی بروز ہے۔امام عبد الوہاب شعرانی الیواقیت والجواہر منہ میں رقمطراز ہیں : مَاتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا قَرَّرَ