شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 66
کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا ہو شریعت محمدیہ کو منسوخ کرے اور آپ کی اُمت میں سے نہ ہو۔دیکھئے خاتم النبیین کے معنے پیدائش کے لحاظ سے آخری نبی لینے کے باوجود و تسلیم کرتے ہیں کہ صاجزادہ ابراہیم جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے تھے ان کا نبی بن جانا منافی خاتمیت نہ تھا۔پس پیدائش کے لحاظ سے آخری نبی مانتے ہوئے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد پیدا ہو کر امتی نبی بننے والے کی نبوت کو نبوت خاتم النبیین کے منافی نہیں سمجھتے۔پس وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین بمعنی پیدائش کے لحاظ سے آخری شارع نبی اور آخری مستقل نہی قرار دیتے ہیں نہ کہ مطلق آخری نبی۔۴۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ابُو بَكْرٍ أَفْضَلُ هَذِهِ الأمة الا ان يكون نبی۔اس جگہ الا کا استثناء بتاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبی پیدا ہونے کا امکان ہے۔يَكُونُ کا لفظ جو مضارع کا صیغہ ہے اسی بات پر صاف دلالت کر رہا ہے کہ اس استثناء سے حضرت علیمی مراد نہیں ہو سکتے۔وہ تو كان نبیؐ کے مصداق ہیں۔يَكُون نبي مصداق تو وہی ہو سکتا ہے جس کو آئندہ مقام نبوت ملے۔اور وہ آنحضرت صلی الشہد علیہ وسلم کا امتی بھی رہے۔کیونکہ سیاق حدیث میں حضرت ابوبکر یہ کا تقابل امت سے ہو رہا ہے۔لہذا مستثنی نبی بھی اتنی تنی ہی ہوسکتا ہے نہ کہ حضرت علی علی اسلام بوستقل بنی تھے۔پس امام علی القاری علیہ الرحمہ کے قول اور اس حدیث سے ظاہر ہے کہ خاتم النبیین کے معنے پیدائش کے لحاظ سے محض آخری نبی مراد لیتا درست نہیں