شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 65
۶۵ سے اب کوئی شخص عند اللہ کوئی روحانی حمال نہیں پاسکتا۔حتی کہ مومن بھی نہیں ہو سکتا۔بلکہ کمالات روحانیہ کپانے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا ضروری ہے۔پس دوسرے علماء کے اپنے مسلک کے مطابق جب خاتم اور خاتم کی قراء توں میں اس طرح معنوی تضاد پیدا ہو گیا تو پھر ان علماء کو ان کے کوئی مشترک سکنے لینے چاہئیں تا تضاد اُٹھ جائے۔اور یہ اسی طرح اُٹھ سکتا ہے کہ جو نبی پیدائش کے لحاظ سے آخری نبی ہو اس کے بعد سی بی کا آنا تسلیم نہ کیا جائے۔تا دوسری قرأت کے سنے قائم رہیں۔پیدائش کے لحاظ سے آخری نبی کو یہ لازم تو نہیں ہے کہ ضرور اس سے پہلے کوئی بنی زندہ ہو جو اس کے بعد آئے۔دیکھو حضرت علی علیہ السلام پیدائش کے لحاظ سے بنی اسرائیل کے آخری بنی ہیں مگر اُن سے پہلے کا کوئی نبی زندہ نہ تھا۔دوسرا طریق ان میں تطبیق کا وہ ہے جو ہم اسی مضمون کے دوسرے حصہ میں اپنے مسلک کے لحاظ سے بیان کرے ہے علاوہ ازیں امام علی القاری نے حدیث لَوْ عَاشَ إِبْرَاهِيمُ وَكَانَ صد تقابلی کے یہ منے لکھے ہیں کہ اگر صاحبزادہ ابراہیم نبی ہو جاتے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع ہوتے۔اور پھر وہ بتاتے ہیں کہ اُن کا تابع نبی ہونا خاتم النبیین کے منافی نہ ہوتا۔کیونکہ خاتم النبیین کے یہ معنی ہیں کہ آپ کے بعد عہ ویسے یہ صورت حدیث کے خلاف ہے کیونکہ حدیث میں مسیح موعود کو نبی اللہ کہا گیا ہے۔پس خاتم النبیین کے حقیقی معنی ایسا نبی ہوں گے جس کی شہر سے دوسروں کو نبوت مل سکے۔تیمی مسیح موعود کو نبی اللہ تسلیم کیا جا سکتا ہے ؟