شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 58 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 58

۵۸ حضرت شاہ صاحب علیہ الرحمہ کے قول کے برخلاف نبوت غیر مستقلہ کی نفی بھی گراد لیں تو پھر بھی اس نھی کو حضرت علی رشہ سے غزوہ تبوک کی غیر حاضری تک ثابت کرنا مقصود ہوگا۔کیونکہ بہادری سے مراد اس جگہ بعد بیت زمانی نہیں لی جاسکتی۔پس ہمیشہ کے لئے غیر مستقلہ نبوت کی نفی اس حدیث سے ثابت نہیں ہو سکتی۔طبقات سعد جلد ۵ ۱۵۰ میں اس حدیث کی دوسری روایت بالمعنی غیر اَنَّكَ لَسْتَ نَبیا کے الفاظ میں وارد ہے۔کہ اے علی ! تو نبی نہیں۔یہ بھی اس امر کی مؤید ہے کہ اس جگہ بعدیت زمانی مراد نہیں۔پھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا " ابو بكر أَفْضَلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِلَّا انْ يكون نبي ، تو یہ مستثنی اپنی جس کے اُمت میں ہونے کا امکان تھا۔آخر غیر مستقل نبی ہی ہو سکتا ہے۔لہذا زیر بحث حدیث کے الفاظ لا نبی بعدی کا تعلق صرف اور صرف حضرت علی رض سے اُس وقت نبوت کی نفی کے متعلق ہی نے تسلیم کرنا پڑے گا یہ کہ علی الاطلاق نبوت غیر مستقلہ کی نفی کے متعلق۔یہ امر تو مسلم بین الفریقین ہے کہ شارع او مستقل نبی انحضرت صلی اللہ علیہ کم کے بعد نہیں آ سکتا۔اب رہا غیر مستقل بنی۔سور الا ان يَكُونَ نَبیؐ کے الفاظ حدیث سے اس کا اُمت محمدیہ کے اندر ہونا متعین ہو گیا - وهذا هو المراد - لا نبی بعدی کی تشریح میں ایک اور حدیث لا نبی بعدی کی حدیث کی تشریح ایک اور حدیث سے بھی ہوتی ہے۔