شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 41 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 41

, آخر الانبیاء کے معنے میں یہ بتا چکا ہوں کہ ختم نبوت کے منفی اور مثبت دو پہلو ہیں۔اور ان دونوں پہلوؤں کے یہ بزرگوار قائل ہیں۔اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے تئیں آخر الانبیاء قرار دیتے ہوئے ان منفی اور مثبت پہلوؤں کی طرف لطیف اور بلیغانہ رنگ میں اشارہ فرما دیا ہے۔چنانچہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔انى أخرُ الأَنْبِيَاءِ وَإِنَّ مَسْجِدِى أَخِرُ المساجد وصحيح مسلم باب فضل الصلاة في مسجد المدينة ) یعنی میں آخری نبی ہوں اور میری یہ مسجد مدینہ مسجدوں میں سے آخری مسجد ہے۔اب صاف ظاہر ہے کہ آنحضر صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر الانبیاء کے ساتھ آخر اما ماجد کا ذکر تقابل اور تمثیل کے لئے بیان فرمایا ہے کہ جس رنگ میں میری مسجد آخری مسجد ہے اُسی رنگ میں میں آخری نبی ہوں۔اب غور فرمائیں کہ کیا مسجد نبوی کے بعد ان مساجد کا بنانا نا جائز ہے جن کا وہی قبلہ ہو جو مسجد نبوی کا قبلہ ہے ؟ اگر ناجائز ہے تو ہزاروں مساجد اسلامیہ جو مسجد نبوی کے بعد تعمیر ہوئیں مساجد کہلانے کی حقدار نہ ہوں گی لیکن اگر یہ مساجد اس وجہ سے مساجد کہلانے کی حقدار ہیں کہ یہ مسجد نبوی کا ہی قبلہ رکھنے کی وجہ سے اس کا ظل اور اس کے تابع ہیں اور اس طرح مسجد نبوی آخری مسجد بھی رہتی ہے اور اس کے بعد اُس کی تابعیت اور طلبیت ہیں اور مساجد بنانا بھی جائز ہے تو اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے آپ کی تابعیت اور ظلیت میں کسی امتی کا مقام نبوت حاصل کرنا جبکہ وہ نبی شریعیت