شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 261
۲۶۱ راس پس جب حضرت علی نبی اللہ کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کے لئے آنا اُن کے نزدیک جائز ہے اور اُن کی آمد اُن کے نزدیک بوجہ نئی شریعیت اور نیا دین و علم نہ لانے کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خاتمیت زمانی کے خلاف نہیں تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ ایسی تابع نبوت ہیں کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی ہونا اور اتنی رہنا لازم ہوا اور اس طرح وہ نبوت کسی نئے علم دین و شریعیت جدیدہ کی حامل نہ ہو۔بلکہ صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق اور تجدید اسلام اور اصلاحات خلیق اور اشاعت اسلام ہی اس کی غرض ہو۔وہ مولوی محمد قاسم صاحب کے نزدیک ا خاتمیت زمانی کی عرض کے خلاف نہ ہونے کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خاتمیت زمانی کے بھی منافی نہیں جیسا کہ وہ آپ کی خاتمیت مرتبی کے منافی نہیں وهذا هو المراد اللہ تعالیٰ مولوی محمد قاسم صاحب کو جزائے خیر دے کیونکہ انہوں نے بلا خوف لومتر لائم خاتم النبیین کی حقیقت پر ایک حد تک نہایت عمدگی سے روشنی ڈالی ہے۔ایسے ہی علمائے محققین اُمت کے لئے باعث فخر ہیں تم ت بالخير خاکسار قاضی محمد نذیر لائل پوری پرنسپل جامعہ احمدیہ ربوه