شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 252 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 252

۲۵۲ جو صرف حقیقی معنوں کو لازم ہوسکتے ہیں تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔بلکہ خاتم المہاجرین کے الفاظ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے حق میں محض مجازی معنوں ربیعنی مکہ سے مدینہ کی ہجرت میں آخری مہاجہ کے معنوں میں ہی استعمال ہوئے ہیں۔اگر بعد کی ہجر توں کے مہاجرین کو حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی ہجرت کے بلادلیل تابع قرار دے کر اُن کو خاتم المهاجرين بمعنی افضل المہاجرین قرار دیا جائے تو پھر اُن کی ہجرت اُن سے پہلے صحابہ کی ہجرت کے تابع قرار دی جاسکے گی۔اور اس وجہ سے افضل نہیں رہے گی۔کیونکہ افضل المہاجرین اُن سے پہلے ہجرت کرنے والے قرار پا جائیں گے۔پھر سچی بات یہ ہے کہ خاتم المہاجرین حقیقی معنوں میں خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔کیونکہ آپ کے بعد جس قدر شلمان قیامت تک ہجرت کرنے والے ہیں ان سب کی ہجرت در اصل آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہجرت کا اثر اور ظل ہو کہ ہجرت کا مذہبی تقدس حاصل کرنے والی ہے نہیں حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو چونکہ حقیقی معنوں میں خاتم المہاجرین قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ اُن کی ذاتی ہجرت کا بعد کے مہاجرین کی ہجرت پر کوئی اثر نہیں اسلئے ده خاتم المهاجرين بمعنی افضل المهاجرین تسلیم نہیں کئے جا سکتے۔نہ پہلے مہاجرین سے نہ پھلوں سے۔افضلیت کا مفہوم تو صرف خاتم کے حقیقی معنوں کو لازم ہے۔اور حقیقی معنی حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے حق میں تسلیم نہیں کئے جا سکتے۔صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں تسلیم کئے جا سکتے ہیں۔