شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 21
M علماء ربانی کا المبشرات کو ایک قسم کی نبوت قرار دیا جسے وہ نبوت ولایت یا غیر تشریعی نبوت کہتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے عین مطابق ہے۔نبوت کی دو تعریفیں نہیں اوپر کے بیان سے ہر صاحب بصیرت پی علوم کر سکتا ہے کہ نبوت کی اسلام ہیں در اصل دو تعریفیں ہیں۔ایک تعریف کے لحاظ سے نبوت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بالکل منقطع ہے۔اور اس تعریف کے ماتحت اب کوئی نبی تاقیامت ظاہر نہ ہوسکتا۔لیکن ایک دوسری تعریف کے لحاظ سے امت محمدیہ کے اندر رسول اللہ صل اللہ علیہ کی کے سلم کی کامل پیروی اور آپ کے افاضہ روحانیہ کے واسطہ سے آپکے اتنی کیلئے نبوت کا مرتبہ پانے کا دروازہ کھلا ہے اور اسی دوسری تعریف کے ماتحت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے امت محمدیہ کے بے موجود کو ہی اللہ قرار دیا ہے۔وہ نبوت جو منقطع ہو چکی ، اس کی تعریف کی رو سے نبی اور رسول ایسے شخص کو کہتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے کامل شرعیت یا احکام جدیدہ لاتے ہیں۔یا بعض احکام شریعت سابقہ کے منسوخ کرتے ہیں۔یا نبی سابق کی اہمیت نہیں کہلاتے۔اور براہ راست بغیر استفاد کسی نبی کے خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتے ہیں۔دیکھئے مکتوب حضرت مسیح موعود مندرجہ اخبار الحکم ، راگست شایع) نبوت کی اصطلاح اس تعریف کے لحاظ سے اسلام کی ایک عام معروف اصطلاح ہے۔اس عرف عام والی اصطلاح کو لکھنے کے بعد حضر بانی سلسلہ حمدیہ عربیہ فرماتے ہیں :- ہوشیار رہنا چاہیے کہ انگہ منی منی نہ مجھ لیں کیونکہ ہماری کتاب بجز قرآن کریم کے نہیں ہے اور کوئی دین بجز اسلام کے نہیں اور ہم اس بات