شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 182
دیکھ چکے ہیں۔مگر انہوں نے آخر الانبیاء کے لازمی یا مجازی معنے ہونے کی طرف بھی اشارہ نہیں کیا۔لہذا خاتم النبیین کے معنے آخرہ الانبیاء لغت میں لکھے ہوئے دیکھے یہ یہ حکم ہرگز نہیں لگایا جاسکتا کہ یہ خاتم النبیین کے بلحاظ لغت عربی حقیقی معنی ہیں۔حقیقی معنی بلحاظ گفت وہی ہیں جو یہیں بیان کر چکا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اثر اور فیض سے نبوت کے مقام پر پہنچانے کا ذریعہ ہیں۔ان معنوں کے نتیجہ میں آپ کا ایک کامل امتی اور پیرو آپ کی عقلیت میں مقام نبوت پاسکتا اور یہ شرف کسی اور نبی کو حاصل نہیں کہ اس کی تاثیر اور افاضہ سے کوئی شخص مقام نبوت پاسکے۔گفت کی کتابوں کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ صرف حقیقی معنے ہی بیان کریں بلکہ گفت نویں اکثر مجازی معنے بھی بغیر اس تصریح کے درج کر دیتے ہیں کہ یہ مجازی معنے ہیں یا قیقی۔بعض لفت نویسیوں نے خاتم النبیین کے معنی بنانے کے لئے خاتم القوم کا محاورہ بھی آخر القوم کے معنوں میں درج کیا ہے۔حالانکہ اس محاورہ کا استعمال اہل عرب میں ان معنوں میں نہیں ملتا۔لیکن بالفرض اگر استعمال ہو بھی تو بہر حال یہ مجازی استعمال ہوگا۔جیسا کہ مفردات راغب سے ظاہر ہے کہ خاتم کے معنے " آخری " مجازی معنی ہیں۔خداوند علیم و آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حقیقی معنوں میں خاتم النبیین قرار دیا ہے نہ کہ مجازی معنوں ہیں۔خاتم النبیین کے حقیقی معنی اگر محض آخری نبی یا مطلق آخری نبی قرار دیئے جائیں تو پھر افضلیت کے معنی مراد نہیں ہو سکتے۔کیونکہ محض آخری کے مقابلہ میں یہ معنی مجازی ہیں۔اس لئے یہ محض آخری کے ساتھ جمع