شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 145
۱۴۵ اس جگہ یا در ہے جو شخص تجدید دین کے لئے مامور ہو وہ بالواسطہ شباب الشریعیت ہی ہوگا۔مگر صاحب شریعیت جدیدہ نہیں ہوگا۔جو امر دعوی کو تشریعی نبوت کا دعویٰ بناتا ہے وہ تو جدید اوامر ونواہی یا ناسخ شریعیت احکام کا نزول ہے۔اگر می ترد دین بالواسطہ بھی صاحب شریعیت نہ ہو تو اس نے تجدید دین کیا کرنی ہے۔پھر منتقلہ نبوت کے دعوی کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ اس شخص نے براہ راست مقام نبوت پایا ہے نہ کہ شریعت محمدیہ کی پیروی کے واسطہ سے۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو نہ شریعت جدیدہ کا دعوی ہے نہ کسی حکم کو منسوخ کرنے یا اس میں ترمیم کا دعوی۔اور نہ یہ دعوی ہے کہ آپ نے براہ راست بغیر پیروی شریعت محمدیہ کے آزادانہ طور مقام نبوت حاصل کیا ہے۔بلکہ آپ اسی طرح دعوی کے بعد بھی شریعت محمدیہ کے کے تابع اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں جس طرح پہلے تھے۔تو پھر آپ کے دعوی کو تشریعی نبوت کا دعوی قرار دینا ظلم عظیم ہے۔دیکھو حضرت بانی سابلہ لم محمد احمدیہ علیہ السلام نے اس عبارت کے آخر میں صاف فرمایا ہے :- ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور قرآن ربانی کتابوں کا خاتم ہے ؟ (اربعین ، مث ) یہ عبارت مولوی محمد شفیع صاحب نے مخفی رکھی ہے۔تاخی پر پردہ پڑا رہے۔وہ منسوب تو آپ کی طرف یہ کرتے ہیں کہ آپ نے کھلے بندوں نبوت مستقلہ اور شریعت جدیدہ کا دعوی کیا ہے ؟ مگر خود وہ حق کو یوں چھپاتے ہیں کہ اگلی عبارت جو اصل حقیقیت پر روشنی ڈالتی ہے اُسے درج نہیں کرتے۔انا للہ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُونَ -