شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 146 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 146

" پس کسی غیر تشریعی امتی نبی کے الہامات میں قرآن مجید کے اوامر و نواہی کا بطور تجدید یا بیان شد بعیت پایا جانا ہرگزہ شریعت جدیدہ لانے کا دعوی نہیں قرار دیا جا سکتا۔اور نہ مستقل نبوت کا دعوی قرار پا سکتا ہے۔اولیاء اللہ پر آن کا نزول! حضرت بانی سلسلہ احمدیہ جب قرآن مجید کو ربانی کتابوں کا خاتم یقین کرتے ہیں تو انہیں تشریعی نبوت کا مدعی قرار دینا درست نہیں۔حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں :- أمَّا الْإِنْقَاءُ بِغَيْرِ التَّشْرِيرِ فَلَيْسَ بِمَحْجُورٍ ولا التعريفات الإلهيَّةُ بِصِعَةِ الْحُكمُ الْمُقَرَّرِ أوْ فَسَادٍ وَكَذَلِكَ تَنَزَّلُ الْقُرْآنِ عَلَى قُلُوبِ الْاَوْلِيَاء مَا انْقَطَعَ مَعَ كَوْنِهِ مَحْفُوظاً لَهُمْ وَالكِنْ لَهُمْ ذَوقُ الْإِنْزَالِ وَهَذَا لِبَعْضِهم ۲۸۷ (فتوحات مکیه جلد ۲ م ) یعنی غیر تشریعی الہام ممنوع نہیں۔اور نہ ایسا الہام ممنوع ہے جس کے ذریعہ خدا تعالے کسی پہلے ثابت محکم کی شناخت کرائے یا کسی تحکم کے فساد یا خرابی کو ظاہر کرے۔یہ دونوں قسم کے الہام منقطع نہیں۔ایسا ہی قرآن کریم کا نزول اولیاء کے قلوب پ قطع نہیں۔باوجودیکہ قرآن مجید اپنی اصلی صورت میں محفوظ