شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 92 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 92

۹۲ اپنے متبوع انبیاء کے تمام کمالات کو جذب کرلیتے ہیں اور پورے طور پر اُن کے رنگ میں رنگین ہو جاتے ہیں۔یہاں تک کہ متبوع انبیاء اور اُن کے کامل تابعین میں سوائے اصالت اور تبعیت (ظلیت) اور اولیت اور آخریت کے کوئی فرق نہیں رہتا۔این عبارت میں ایک طرح انہوں نے اصل وظیل میں مساوات بھی تسلیم کی ہے۔اور فرق بھی تسلیم کیا ہے۔آگے فرماتے ہیں۔اصل اور حل کے مبادی تعینات ہیں اختلاف ہونے کی وجہ سے (کیف يُتَصَوَّرُ الْمُسَاوَاتُ بَيْنَ الْأَصْلِ وَ الظل، اصل اور حال میں مساوات کا کیسے تصور کیا جا سکتا ہے۔نبی کا لقب مولوی محمد ادریں صاحب لکھتے ہیں :۔مل اگر فنانی الریسوں کی وجہ سے غیر تشریعی اور غیر مستقل نبی کا لقب ہل سکتا ہے تو مستقل رسول اور متنقل نبی کا لقب کیوں نہیں مل سکتا ؟ اور فنا فی اللہ کی وجہ سے اللہ اور خدا کا لقب کیوں نہیں مل سکتا ہے" رختم النبوة م٣) اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کا خدا بنا ممتنع بالذاست، در محال ہے۔مگر کیسی انسان کا نبی بننا ممتنع بالذات نہیں۔اِس لئے نبوت کا لقب بطور خلیت و بروز بیست ملنے کو خدا تعالٰی کی نلیت و بروزیت پر پورے طور پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔اسی لئے خلفاء اور بادشاہ بلکہ انبیاء بھی حقیقی طور پر خدا نہیں کہلا سکتے۔کیونکہ وہ خدا کے مجازی برونہ اور