شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 91
91 5 فتی خاتم النبیین میں بنائیت کے پہلو کے لحاظ سے تو دوئی نہیں ہوتی۔مگر اصل خاتم ! النبیین کی مثال اس شہر کی سمجھنی چاہئے ہو نقش پیدا کرتی ہے۔یہ متقی شہر کہلاتی ہے۔اور جو نقوش اس سے پیدا ہوں بیشک بھی مہر کہلاتے ہیں۔اور اصلی کا حق ہوتے ہیں۔اور گورنہ مساوات اور عینیت رکھتے ہیں۔اور اُن میں دوئی نہیں ہوتی۔مگر ان دونوں میں ایک عظیم الشان فرق بھی ہوتا ہے۔جو یہ ہے کہ اصل مہر سے ہزاروں اور مہریں ایسی ہی لگ سکتی ہیں۔مگر علی مہر میں یہ کمال اور خوبی موجود نہیں ہوتی۔ہاں طقی خاتم النبيين چونکہ ہر حال نبی اور رسول ہوتا ہے۔اس لئے و حقیقی خاتم الاولیاء ضرور ہوتا ہے پھر خالی کے ہر کمال کا مرجع تو اصل ہی ہوتا ہے۔اسی لئے باقی سلسلہ احمدیہ نے اپنے وجود کو منفی قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے :۔+ تمام آدم زادوں کے لئے اب کوئی رسول اور شفیع نہیں مگر محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا ی رکشتی نوح صدا ) حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ کو بات جلد اول مکتوب ۲۳ میں فرماتے ہیں:۔کمل تابعان انبیاء بہت کمال متابعت و فرط محبت بلکه بمحض عنایت و موسیبت جمیع کمالات انبیائے متبوعہ و خود را جذب سے نمائند و بکلیت برنگ ایشان منصبغ سے گردند ستی که فرق نمے ماند در میان متبوعان د تابعان إلا بِالْاصَالَةِ وَالتَّبِعِيَّةِ وَالاَولِيَّةِ وَ (مکتوبات جلد مکتوب ۳۳۵) یعنی انبیاء کے کامل تابعین ان کی کمال تابعیت اور اُن سے انتہائی محبت رکھنے کی وجہ سے بلکہ محض خدا تعالیٰ کی عنایت اور موہیت سے الأخرية