شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 90 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 90

4- مولوی محمد ادریس صاحب لکھتے ہیں :- ظل اور اصل کا عین اور متحد ہونا بدیہی البطلان ہے۔اگر مراد یہ ہو کہ ذی نقل کی کوئی صفت اور کوئی شان اس میں آجائے تو اس اعتبار سے تو مطلب یہ ہوگا کہ حضور کی صفات نبوت اور کمال است نبوت اور رسالت کا ایک سایہ اور پر تو ہوں۔تو اس سے نہ نبوت ثابت ہوتی ہے نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اتحاد اور عینیت کا دعوی ثابت ہو سکتا ہے۔حدیث میں ہے السُّلْطَانُ ظِلُّ الله في الأرض - بادشاہ زمین میں اللہ کا سایہ ہے تو کیا خلفاء اور سلاطین کا بعینہ خدا ہونا ثابت ہوجائے گا ؟ (ختم النبوة من) >> “ اب مولانا محمد قاسم صاحب کا بیان پڑھے۔وہ فرماتے ہیں :- اس صورت میں اگر فلق اور اصل میں شادی بھی ہو تو کچھ حرج نہیں کیونکہ افضلیت بوجہ اصلیت پھر بھی ادھر (اصیل خاتم النبیین کی طرف ہی رہے گی یا تحذیر الناس ف۱۳ یا ۳۳ بلحاظ ایڈیشن مختلفه) پھر اس پر دلیل قائم کرتے ہوئے فرماتے ہیں :- جیسے آئینہ میں عکس زمین کی دھوپ کا عکس آفتاب کا طفیلی ہے اور اس وجہ سے آفتاب ہی کی طرف منسوب ہونا چاہئیے ؟ (ایضاً من ) مولوی محمد قاسم صاح بنے تو ظلی خاتم النبین کو بھی اپنی کتاب میں اس کمال کا حامل مانا ہے کہ اس کی خلیقیت سے آگے نبوت نامہ مل سکتی ہے۔مگر ہمارے نزدیک لیے شک