شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 87
کے قلب صافی پر انوار نبوت کی جو جلتی ہوتی ہے وہ تو اصل کا ہی ایک شکس ہوتا ہے۔ظلی نبوت کے حصول کا دروازہ تو فنافی الرسول کی اتم درجہ حالت ہے ظلی نبی کی آمد سے خاتم النبیین کی مہر نہیں ٹوٹی۔بلکہ اس مہر کے فیضان کا کمال ظاہر ہوتا ہے۔چنانچہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں :- خدا ایک اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کا نبی ہے اور وہ خاتم الانبیاء ہے۔اور پسے بڑھ کر ہے۔اب بعد اس کے کوئی نبی نہیں مگر وہی جس پر بروزی طور پر تربیت کی چادر پہنائی گئی۔کیونکہ خادم اپنے مخدوم سے جدا نہیں۔اور نہ شاخ اپنی بینج سے جدا ہے۔پس جو کامل طور پر مخدوم محمد صلی الہ علیہ وقت میں فنا ہوکر خدا سے نبی کا لقب پاتا ہے وہ ختم نبوت میں خلل انداز نہیں جیسا کہ تم جب آئینہ میں اپنی شکل دیکھو تو تم دو نہیں ہو سکتے بلکہ ایک ہی ہو۔اگر چہ بظاہر دو نظر آتے ہیں۔صرف ظلی اور اصل کا فرق ہے۔سو ایسا ہی خُدا نے مسیح موعود میں چاہا ہے دکشتی نوح مشا) احدًا پھر اشتہار ایک غلطی کا ازالہ میں فرماتے ہیں :- قرآن شریف بر بنی بلکہ رسول ہونے کے دوسروں پر علوم غیبک دروازہ بند کرتا ہے جیسا کہ آیت فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ 1 الا من ارتضیٰ مِنْ رَّسُولٍ سے ظاہر ہے۔پس مصفی ـ پانے کے لئے نبی ہونا ضروری ہوا۔اور آیت اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ گواہی دیتی ہے کہ اس صنفی تغیب سے یہ امت محروم نہیں۔اور مصنفی