شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 77
66 کے حقیقی معنوں کے ساتھ بطور لوازم کے جمع ہیں۔حضرت امام علی القاری رحمہ للہ علیہ نے جیسا کہ میں قبل ازیں بتا چکا ہوں خاتم النبیین کے یہی معنے کئے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا جو آپ کی شریعت کو منسوخ کرے۔اور آپ کی امت میں سے نہ ہو۔اس لئے غیر مستقل بنی یا بالفاظ دیگر امتی نبی کی آمد خاتم النبیین کے منافی نہیں۔کیونکہ خاتم النبیین کا مقام اپنے حقیقی معنی کے لحاظ سے ایسے نبی کی آمد کے نہ صرف یہ کہ منافی نہیں بلکہ ایسے نبی کے آپؐ کی اُمت میں ظاہر ہونے کا متقاضی ہے۔اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے امت محمدیہ میں مبعوث ہونے والے عیسی کو چار دفعہ نبی اللہ قرار دیا ہے۔(ملاحظہ ہو حدیث صحیح مسلم برایت نواس بن سمعان با شروع ایتال) حضرت مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی نے خاتم النبیین کے یہ حقیقی معنے تسلیم کئے ہیں۔چنانچہ آپ تحذیر الناس منہ میں لکھتے ہیں : جیسے خاتم کا اثر مختوم علیہ پر ہوتا ہے ویسے موصوف بالذات دخاتم النبيين - ناقل) کا اثر موصوف بالعرض ( وستر انبیاء - تناقل) پر ہوگا گیا آنحضرت صل اللہ علیہ وسلم کی بات مولوی مقام ما کے نزدیک بالذات ہے۔اور دوسرے تمام انبیاء آپ کی مہر نبوت کے فیض کا اثر ہونے کی وجہ سے موصوف بوصف نبوت بالعرض ہیں۔اور خاتم النبیین کے انہی معنوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے آپ تحریر فرماتے ہیں:۔بالفرض اگر بعد زمانہ نبی صلی الہ علیہ سلام کی کوئی نبی پیدا ہو