شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 63 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 63

مولوی محمد ادریس صاب کی توجیہ محض آخری نبی بلحاظ پیدائش پر تبصرہ ! مولوی محمداد میں صاحب اپنے رسالہ ختم النبوة “ میں لکھتے ہیں کہ خاتم النبیین کے معنے آخری نبی آخر میں پیدا ہونے والا نبی کے لحاظ سے ہیں اس لئے حضر علیسی ، تو آپ کے بعد آسکتے ہیں لیکن مرزا صاحب نبی نہیں ہو سکتے۔(1) مگر یہ معنے لیتے ہوئے انہوں نے سوچا نہیں کہ اس طرح تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ادھور سے خاتم النبیین رہ جاتے ہیں۔اور ختم نبوت دو نبیوں میں بٹ جاتی ہے۔کیونکہ جب خاتم النبیین کے معنی اُن کے نزدیک محض آخری نبی ہیں تو پیدا ہونے کے لحاظ ت تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبيين ہوئے اور بقا (باقی رہنے کے لحاظ سے حضرت عیسی علیہ السلام آخری نجابن کہ خاتم استبیین بن گئے۔اس طرح دونوں نبی ادھورے خاتم النبیین قرار پاتے ہیں۔کیونکہ پورا آخری تو رہی ہو سکتا ہے جو پیدائش اور بقا دونوں لحاظ سے آخری ہو لیکن مولوی محمد اور میں صاحب کے معنوں کے لحاظ تو ختم نبوت کا مقام آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم اور حضرت عیسی علیہ السلام میں تقسیم ہو کر رہ جاتا ہے۔کیونکہ ایک لحاظ سے آخری نبی تو حضرت عیسی علیہ السلام کو بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔چنانچہ امام عبد الوہاب شعرانی الیواقیت والجواہر جلد ۲ ص ۲۲ میں لکھتے ہیں :- جَمِيعُ الأنبياء عَلَيْهِمُ الصَّلَواتُ وَالسّلَامُ نُوَّابٌ لَّهُ : D & }