شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 56 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 56

۵۶ مینی فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں دو باتیں بیان ہوئی ہیں۔غزوہ تبوک میں علی رضی اللہ عنہ کا مدینہ میں نائب یا مقامی امیر بنایا جانا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت ہارون کی حضرت موسی سے اس نیا بہت ہیں جو حضرت موسی کے طور کا سفر اختیار کرنے کے وقت بھی تشبیہہ دینا۔پھر فرماتے ہیں۔اس حدیث میں بعد ی کے لفظ کے معنی غیرتی ہیں نہ کہ بعدیت زمانی۔اور بعد بیت زمانی نہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ حضرت ہارون حضرت موسیٰ کے بعد زندہ نہیں رہے۔پس حضرت علی کے لئے بعد میت زمانیہ الا ذریعہ استثناء مراد نہیں ہو سکتا۔حاصل مطلوب حدیث کا یہ ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام نے اپنی غیرحاضری میں ہارون علیہ السلام کو جو اُن کے اہل بیت میں سے تھے اور حضرت موسی کے نائب بھی تھے۔اور اصالہ نبی بھی تھے۔مقامی امیر بنایا اور حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت سے ہونے میں اور مدینہ منورہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غیر حاضری میں نائب ہونے میں تشبیہہ دیئے گئے ہیں نہ کہ براہ راست نبی ہوتے ہیں۔اور اس طرح حدیث کے معنے یہ ہیں کہ اس غیر حاضری کے زمانہ میں جو سفر تبوک کے ذریعہ ہوگی میرے سوا کوئی نبی نہ ہوگا۔بعدی کے معنی میری کے ہیں نہ بعد یت زمانی کے۔حضرت ولی اللہ صاحب علیہ الرحمہ کے بیان سے ظاہر ہے کہ اس حدیث میں لا نبی بعدی کے الفاظ کا تعلق صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غزوہ تبوک پر غیر حاضری کے وقت سے ہے نہ کہ بعد بیت زمانی سے۔کیونکہ بعد یت زمانی مراد