شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 42
۴۲ محمدیہ کے تابع اور آپ کا اُمتی ہی رہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے کے خلاف نہیں۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر الانبیاء کو آخر المساجد کے تقابل میں پیش کرتے ہوئے عجیب بلیغانہ انداز میں آخر الانبیاء کے مقام کے مثبت اور منفی دونوں پہلوؤں کی طرف اشارہ فرما دیا ہے۔حضرت پیران پیر علیہ الرحمہ کا مذہب پیر پیران حضرت غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی قدس ستره آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے امتیوں میں سے مقام نبوت پانے والوں کی شان میں لکھتے ہیں :۔اوتي الأنبياء اسْمَ النُّبُوَّةِ وَأُوتِينَا اللَّقَبَ اى حُجرَ عَلَيْنَا اسْمُ النُّبُوَّةِ مَعَ انَّ الْحَقِّ سوى يُخبرُنَا فِي سَرَائِرِ نَا مَعَانِي كَلَامِهِ وَكَلَامِ رَسُولِهِ وَصَاحِبٌ هَذَا الْمَقَامِ مِنْ أَنْبِيَاءِ الْأَوْلِيَاءِ الیواقیت والجواہر جلد ۲ ۳۵ و نبراس شرح الشرح لعقائد نسفی حاشیه ۴۲۵ ) یعنی انبیاء کو تو نبی کا نام دیا گیا ہے۔اور ہم اتنی لقب نبوت پاتے ہیں۔(یعنی ہمیں مرکتب نام دیا گیا ہے ، ہم سے النبوة کا نام روکا گیا ہے (یعنی محض نبی کہلانے کا حق ) با وجود اس کے کہ ہمارا پورا حق ہے (کہ نہیں نبی کا نام دیا جاتا ) کیونکہ خدا تعالیٰ ہمیں خلوت میں اپنے کلام اور اپنے رسول کے کلام کے معانی