شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 29
۲۹ مِنْ نَفْسِهِ وَلَا سَدِيلَ لِصَاحِبِ هَذَا الْمَقَامِ اَنْ تَكُونَ عَلَى شَرَ يخصه يُخَالِفُ شَرعَ رَسُولِهِ الَّذِى أُرْسِلُ إِلَيْهِ وَاُمِرْنَا بِاتَّبَاعِد ابدا - (الیواقیت والجواہر جلد ۲ ۲۸۰۲۵ بلحاظ ایڈیشن مختلفه ) یعنی انسان کو جو نبوت ملتی ہے اس کی دو قسمیں ہیں تقسیم اول کی نبوت خدا تعالیٰ اور اس کے بندے کے درمیان روج ملکی کے بغیر ہوتی ہے یعنی ا میں روح کی شرعیت جدیدہ نہیں لاتا بلکہ صرف خدائی غیب کی خبریں ہوتی ہیں جنہیں انسان اپنے نفس میں غیب سے پاتا ہے یا کچھ تجلیات ہوتی ہیں یعنی مکاشفات ہوتے ہیں ، مگران کا تعلق کسی امر کو حلال یا حرام کرنے سے نہیں ہوتا بلکہ ان کا تعلق صرف کتاب اللہ کے معانی اور سنت رسول کے معانی جانتے اور سمجھتے سے ہوتا ہے۔یا پھر کسی شرعی حکم کی جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک ثابت ہو ان تجلیات کے ذریعہ تصدیق مطلوب ہوتی ہے۔یا کسی حکم کی جوگو نقل دروایت ) کے لحاظ سے اس کی صحت ثابت ہو خرابی بتانا مقصود ہوتی ہے وغیرہ۔اور یہ سب امور اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبردار کرنے اور (شریعت سابقہ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بغور شاہد عادل کے ہوتے ہیں۔اس مقام والے نبی کی اپنی کوئی شریعت نہیں ہوتی جو اس رسول کی شریعت کے خلاف ہو۔جو رسول کہ خود اس نبی کی طرف بھی بھیجا گیا ہے۔اور جس کی ہمیشہ کے لئے پیروی کا ہمیں حکم دیا گیا ہے۔دینی سرور کائنات فخر موجودات حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود باجود ) اس کے بعد وہ نبوت کی دوسری قسم میں تشریعی نبوت کے متعلق لکھتے ہیں۔هذَا الْمَقَامُ لَمْ يَنقَ لَهُ اثْرَ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الا في الأئمة المجتهدين من امته اليواقيت الجواهر حال مذكور)