شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 248 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 248

۲۴۸ ہجرتیں ہونے والی تھیں جیسا کہ ہمارے موجودہ زمانہ کی ہجرت ہے جو تقسیم ہند کے وقت کرنا پڑی ہے۔پس حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ آپ اس ہجرت مخصوصہ کے لحاظ سے مہاجرین کے آخری فرد ہیں۔نہ کہ مطلق مہاجرین کا آخری فرد جس طرح میں النبوة یعنی نبوت مخصوصہ تشریعیہ اور تقلہ کے لحاظ سے انبیاء کا آخری فرد ہوں نہ کہ محض آخری نبی۔گویا آپ کے بعد بھی بنی کی آمد کا امکان ہے۔گو اب کوئی شارع اور تنقل نبی نہیں آسکتا۔چنانچہ خود غر احمدی علماء بھی حضرت عیسی علیہ السلام کی آمدثانی کے قائل ہیں۔اور انہیں آنحضرت صلی اللہ یہ وسلم کے بعد آخری تابع بنی قرار دیتے ہیں۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس حدیث کے رو سے خاتم النبیین معنی مطلق آخری نبی قرار نہیں دیئے جاسکتے۔بلکہ ان معنوں میں آخری نبی قرار دئیے جا سکتے ہیں کہ آپ آخری شارع اور آخری مستقل بنی ہیں۔ورنہ خاتم النبیین کے ساتھ فی النور کی قید بے فائدہ ہو جائیگی۔حالانکہ نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کا کلام زوائد سے پاک ہوتا ہے۔پس جس طرح خَاتَمُ الْمُهَاجِرِينَ فِى الهجرة من الهجرة سے مکہ سے مدینہ کی مخصوص ہجرت مراد ہے اسی طرح النبوة سے مراد نبوت مخصوصہ یعنی تشریعی اور ستقلہ نبوت ہے۔اسی کے لحاظ سے آپ خاتم النبیین بمعنی آخری شارع اور آخری مستقل بنی ہیں۔یہ منی خاتم النبین کے حقیقی معنی کو لازم ہیں۔قرائن وجه شبه یہ بات سمجھ لینے کے بعد اب وجہ شبہ کا مجھ لینا آسان ہے قرینہ اولی انسان ظاہر ہے کہ حضر عباس معنی اللہعنہ اپنی ہجرت کو