شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 243
جلد اول ۳۲۰ میں خاتم المومنین اور خاتم العارفین قرار دیا ہے۔اور آئینہ کمالات اسلام ۵۶ میں خاتم الحسينين و الجمیلین لکھا ہے۔چونکہ اس جگہ بھی یہ حقیقی معنی چسپاں ہو سکتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے افاضہ روحانیہ کی تاثیر سے مومن عارف اور روحانی حسن و جمال رکھنے والے لوگ پیدا ہوتے ہیں۔اس لئے ان معنوں کے بالتبع آپ افضل المؤمنين ، افضل العارفين اور افضل الحسینین اور افضل الجمیلین ہیں۔- مسیح موعود اور خاتم الخلفاء کا مقام ایک سوال یہ کیا جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حقیقة الوحی منت پر اپنے میں خاتم الخلفاء اور آخری خلیفہ قرار دیا ہے۔کیا اب آپ کے بعد کوئی خلیفہ نہ ہوگا؟ اگر یعنی ہیں تو کیوں آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم کو آخری نبی کے معنوں میں خاتم النبيين نہ سمجھا جائے۔اس کے جواب میں عرض ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی حقیقی معنوں میں خاتم الخلفاء ہیں۔جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حقیقی معنوں میں خاتم الانبیاء ہیں۔خاتم النبیین کے حقیقی معنی یہ ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور افاضہ روحانیہ کے طفیل مقام نبوت آپ کے ایک کامل امنی کو مل سکتا ہے اسی طرح خاتم الخلفاء کے یہ معنی ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کامل متبعین کو اب آپ کے واسطہ سے ہی مقام خلافت حاصل رہے گا۔آپ کا مت کر اب منصب خلافت پر سرفراز نہیں ہو سکتا۔